خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 289
خطبات مسرور جلد 11 289 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013 ء چاہے وہ تجارت ہے، چاہے وہ ملازمت ہے، چاہے وہ کھیتی باڑی ہو، کچھ بھی ہو۔لیکن ان دنیاوی کاموں کے دوران بھی خدا تعالیٰ یا درہنا چاہئے۔اور جب خدا تعالیٰ یاد ہوگا، یہ احساس ہوگا کہ یہ دنیاوی کام بھی خدا تعالیٰ کے حکم کے مطابق میں بجالا رہا ہوں تو پھر ایمانداری سے اپنے کام کا حق ادا کرنے کی بھی انسان کوشش کرے گا اور پھر انسان کسی قسم کے غلط اور ناجائز فائدہ سے بھی بچنے کی کوشش کرتا ہے۔پھر ایک مومن کا جو دنیا داری کا کاروبار ہے وہ بھی پھر دین بن جاتا ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کی یاد اور اُس کی رضا ہر وقت پیش نظر رہتی ہے۔صحابہ جو ہمارے سامنے نمونے قائم کر گئے ، وہ صرف ہمارے لئے وقتی حظ اٹھانے کے لئے نہیں تھے۔تعریف کرنے کے لئے نہیں تھے ، اُن کو ہماری تعریف کی ضرورت نہیں ہے، اُن کی تو خدا تعالیٰ نے تعریف کر دی۔اُن کو اللہ تعالیٰ سے یہ سند مل گئی کہ اللہ اُن سے راضی ہوا۔پس جس سے خدا تعالیٰ راضی ہو جائے اُس کو کسی بندہ کی حاجت نہیں رہتی کہ اُس کی تعریف کی جائے۔ہاں یہ نمونے ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ اگر تم اُن کے نمونوں پر چلو گے، اللہ تعالیٰ کی محبت کو سامنے رکھتے ہوئے کارو بار زندگی سرانجام دو گے تو خدا تعالیٰ تمہیں بھی اپنی رضا کی راہوں پر چلنے والوں میں شمار کرے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ اگر ایمان کے معیار حاصل کرنے ہیں تو اپنے اخلاق بھی بلند کرو۔اخلاق کی بلندی کا حقوق العباد کی ادائیگی سے صحیح پتہ چلتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 216 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) گو یا صرف نمازیں پڑھ لینا اور اپنے زعم میں خدا تعالیٰ کا حق ادا کر دینا ہی اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے اور ایمان لانے والا نہیں بناتا بلکہ اپنے معاشرے کے جو حقوق ہیں اُن کی ادائیگی بھی ایک ایمان کا دعویٰ کرنے والے کے لئے انتہائی ضروری ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ ہستی اور کسل کی حالت سے بھی بچو کہ یہ بھی اللہ تعالیٰ سے دور لے جاتی ہے۔(ماخوذ از مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 654 اشتہار نمبر 270 بعنوان «تبلیغ الحق، مطبوعہ ربوہ ) اکثر پانچ وقت نمازیں نہ پڑھنے والوں سے جب وجہ پوچھو، میں پوچھتارہتا ہوں ، تو یہی جواب ہوتا ہے۔ستی اور لا پرواہی کا ہی بتاتے ہیں۔پھر یہ سستیاں جو ہیں خدا تعالیٰ کی محبت سے بھی غافل کرتی ہیں اور یہ غفلت آہستہ آہستہ دین سے بھی دُور لے جاتی ہے۔آخرت کا خوف، اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے کا خوف، پھر یہ بھی نہیں رہتا۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے مسجدوں کو آباد کرنے والوں کی نشانی آخرت پر ایمان بھی بتائی ہے کہ اس زندگی میں کئے گئے جو اعمال ہیں اُن کا بدلہ آخرت میں ملنا ہے۔خالصہ خدا تعالیٰ