خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 285 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 285

خطبات مسرور جلد 11 285 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 17 مئی 2013 ء میں نے کہا کہ اصل چیز آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق وہ نیت ہے جس کے تحت کوئی کام کیا جاتا ہے۔اور ہماری نیت اللہ تعالیٰ کی توحید کو قائم کرنا، اُس کے پیغام کو پھیلانا، زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے جھنڈے تلے لانا ہے۔اپنی حالتوں اور اپنی نسلوں کی حالتوں میں روحانی انقلاب پیدا کرنا ہے۔اور یہ انقلاب پیدا کرتے ہوئے ، اپنے آپ کو اور اپنی نسلوں کو خدائے واحد کے آگے جھکنے والا بنانا ہے۔نمازوں کے قیام کے لئے اپنی تمام تر کوششوں کو بروئے کارلانا ہے۔مساجد کو اس غرض کے لئے اس طرح بھر دینا ہے کہ وہ اپنی مکانیت کے لحاظ سے چھوٹی نظر آنے لگیں۔پس جب یہ نیت ہو تو بظاہر بڑی مساجد جو ہیں وہ دکھا وا نہیں ہوتیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے والی ہوتی ہیں۔اور انشاء اللہ تعالیٰ مجھے یقین ہے کہ آپ لوگ جو اس علاقے میں رہتے ہیں، جنہوں نے اس مسجد کو آباد کرنا ہے اگر اس نیت سے مسجد کا حق ادا کرنے والے بنیں گے تو جہاں اسلام اور احمدیت کے پیغام کو پھیلانے والے ہوں گے، اپنی روحانی ترقیات میں آگے بڑھنے والے ہوں گے، اپنی نسلوں کو خدائے واحد سے جوڑ کر اُن کی دنیا و عاقبت سنوارنے کا ذریعہ بنیں گے، وہاں اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرتے ہوئے اُس کے انعامات کی بارش اپنے پر برستاد یکھنے والے بھی ہوں گے، انشاء اللہ۔اور جب اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی بارش برستی ہے، جب نیت صرف اور صرف اُس کی رضا کا حصول ہوتی ہے تو پھر ایک ایک شہر میں کئی مساجد بنانے کی بھی توفیق اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔پس اب آپ کی نیت یہ ہونی چاہئے کہ انگلی مسجد کی تعمیر کے لئے ہم نے تیس چالیس سال انتظار نہیں کرنا بلکہ اس مسجد اور اس جیسی کئی مساجد کی مکانیت کو چھوٹا کرتے چلے جانا ہے۔ہم نے مسجدیں آباد کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کا حق ادا کر کے اور اُس کے حکم کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھال کر مساجد کی تنگی کو اپنے پر اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی وسعت کا ذریعہ بنانا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے بڑھاتے چلے جانے کا ذریعہ بنانا ہے۔پس اگر آج ہم اس نیت سے اپنی مسجد کا افتتاح کر رہے ہیں تو یقینا ہم اب تک اپنی با قاعدہ مسجد نہ بنانے کی کمزوری کا مداوا کرنے کی کوشش کرنے والے ہوں گے۔اور اس ملک میں جن علاقوں میں مسجدیں نہیں ہیں وہاں بھی اس مسجد کے افتتاح کے ساتھ اس کی طرف توجہ پیدا ہوگی ، تو یہی مداوا ہوگا۔ہمیشہ یادرکھیں جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ مسجدا اپنی ایک اہمیت رکھتی ہے اور سینٹرز اور ہال وہ مقام حاصل نہیں کر سکتے جو مسجد کا ہے۔بیشک جماعت کو ایک جگہ جمع ہو جانے کے لئے جگہ میسر آ جاتی ہے لیکن