خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 281 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 281

خطبات مسرور جلد 11 281 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مئی 2013ء پھر آپ فرماتے ہیں : ”خوب یاد رکھو کہ اگر تقوی اختیار نہ کرو گے اور اُس نیکی سے جسے خدا چاہتا ہے کثیر حصہ نہ لو گے تو اللہ تعالیٰ سب سے اوّل تم ہی کو ہلاک کرے گا۔کیونکہ تم نے ایک سچائی کو مانا ہے اور پھر عملی طور سے اُس کے منکر ہوتے ہو۔اس بات پر ہر گز بھروسہ نہ کرو اور مغرور مت ہو کہ بیعت کر لی ہے۔جب تک پورا تقویٰ اختیار نہ کرو گے، ہرگز نہ بچو گے۔خدا تعالیٰ کا کسی سے رشتہ نہیں۔نہ اُس کو کسی کی رعایت منظور ہے۔جو ہمارے مخالف ہیں وہ بھی اُسی کی پیدائش ہیں اور تم بھی اُسی کی مخلوق ہو۔صرف اعتقادی بات ہرگز کام نہ آوے گی جب تک تمہارا اقول اور فعل ایک نہ ہو۔“ (ملفوظات جلد 4 صفحہ 112 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ جماعت کو تقویٰ میں بڑھنے ، اعمالِ صالحہ کی طرف توجہ دینے ، دعاؤں کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرماتے ہیں کہ : نرا بدیوں سے بچنا کوئی کمال نہیں۔ہماری جماعت کو چاہیے کہ اسی پر بس نہ کرے۔نہیں بلکہ اُنہیں دونو کمال حاصل کرنے کی سعی کرنی چاہیے جس کے لئے مجاہدہ اور دعا سے کام لیں۔یعنی بدیوں سے ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 663 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) بچیں اور نیکیاں کریں۔“ انسان دوسرے انسان پر اپنے عمل سے اثر انداز ہوتا ہے۔اس لئے آپ نے فرمایا کہ تمہارا قول وفعل ایک ہونا چاہئے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے دعوت الی اللہ کرنے والوں کو نیک اعمال بجالانے کی طرف توجہ دلائی ہے۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں: نرمی سے کام لو اور اس سلسلہ کی سچائی کو اپنی پاک باطنی اور نیک چلنی سے ثابت کرو۔یہ میری نصیحت ہے،اس کو یا درکھو۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 185 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پس دنیا پر سلسلہ کی سچائی اُس وقت ثابت ہوگی جب ہمارے اندرو باہر ایک ہوجائیں گے۔ہمارا قول وفعل ایک ہوگا۔جب ہم نئے آنے والوں کو اسلام کی خوبصورت تعلیم بتا کر اپنے میں شامل کریں گے۔پھر رنگ ،نسل ، قوم کے فرق کو مٹا کر صحیح اسلامی تعلیم کے مطابق ہمیں ہر ایک کو بھائیوں کی طرح گلے سے لگانا ہو گا۔اپنے عزیزوں کی طرح اُن سے سلوک کرنا ہوگا۔بہت سے افریقن امیریکن گزشتہ زمانوں میں احمدی ہوئے ، جن کی آئندہ نسلیں جماعت سے دور ہوگئیں اور جو وجوہات ہیں اُن میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے جو شکوہ رہتا ہے، جب اکثر میں نے پوچھا ہے کہ پاکستانیوں احمدیوں کی اکثریت نے انہیں اپنے اندر صحیح جذب نہیں کیا۔اسلام کی تعلیم تو بتائی لیکن اپنے عمل اُس کے مطابق نہیں رکھے۔گو یہ دُور ہٹنے والوں