خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 280
خطبات مسرور جلد 11 280 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مئی 2013ء صرف اس وجہ سے کہ خلیفہ وقت یہاں آیا ہوا ہے۔اور یہ سب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی محبت کی وجہ سے ہے جو اُن کا خلافت سے تعلق ہے۔پس اگر دیکھنے والی آنکھ یہ دیکھے اور ہر دل اور دماغ جو غور کرنے والا اور تدبر کرنے والا ہے اس بات کو اپنے سامنے رکھے تو اللہ تعالیٰ کی ہستی اور جماعت کی سچائی پر ایمان مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جاتا ہے۔پھر آپ نے ایک بچے احمدی کی یہ نشانی بتائی کہ آپ کی بیعت میں آنے کے بعد اُس میں اللہ تعالیٰ سے محبت کرے۔“ کی محبت بڑھے۔آپ فرماتے ہیں کہ: ” خدا تعالیٰ نے اس وقت ایک صادق کو بھیج کر چاہا ہے کہ ایسی جماعت تیار کرے جو اللہ تعالیٰ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 402 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پس ہم میں سے ہر ایک کو جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت نے ہم میں کس قدر ترقی کی ہے۔کیا وہ اعمالِ صالحہ جن کے بجالانے کا اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں حکم دیا ہے خدا تعالیٰ کی محبت کے حصول کے لئے ہم بجالا رہے ہیں؟ یا انہیں تلاش کر کے بجالانے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اگر نہیں تو ابھی ہم اسلمنا کے دائرے میں ہی پھر رہے ہیں۔جب اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ ہم ایمان میں ترقی کریں، جبکہ اللہ تعالیٰ کا ہم سے یہ مطالبہ ہے کہ ہم ایمانوں میں مضبوط ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : میں خوب جانتا ہوں کہ ہماری جماعت اور ہم جو کچھ ہیں اسی حال میں اللہ تعالیٰ کی تائید اور اُس کی نصرت ہمارے شامل حال ہوگی کہ ہم صراط مستقیم پر چلیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل اور سچی اتباع کریں۔قرآن شریف کی پاک تعلیم کو اپنا دستور العمل بناویں اور ان باتوں کو ہم اپنے عمل اور حال سے ثابت کریں۔یعنی عمل، ہماری عملی حالتیں ایسی ہو جائیں کہ یہ ثابت ہو کہ ہم ان باتوں پر عمل کر رہے ہیں۔فرمایا ” نہ صرف قال سے“۔صرف زبانی باتیں نہ ہوں۔اگر ہم اس طریق کو اختیار کریں گے تو یقیناً یا درکھو کہ ساری دنیا بھی مل کر ہم کو ہلاک کرنا چاہے تو ہم ہلاک نہیں ہو سکتے۔اس لئے کہ خدا ہمارے ساتھ ہوگا۔لیکن اگر ہم خدا تعالیٰ کے نافرمان اور اُس سے قطع تعلق کر چکے ہیں تو ہماری ہلاکت کے لئے کسی کو منصوبہ کرنے کی ضرورت نہیں کسی مخالفت کی حاجت نہیں۔وہ سب سے پہلے خود ہم کو ہلاک کر دے گا۔“ ( ملفوظات جلد 4 صفحہ 146 ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ )