خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 279
خطبات مسرور جلد 11 279 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مئی 2013ء سے محروم کر دیا گیا ہے اور نہ صرف شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا ہے بلکہ فلموں کی چکی میں پیسا جارہا ہے۔پس یہاں آپ کا آنا جماعت احمدیہ کا فرد ہونے کی وجہ سے ہے۔اور یہ چیز اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ ایک عملی احمدی ہونے کا نمونہ بھی دکھا ئیں۔یہاں میں پھر اس بات کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ یہاں جو اسائلم سیکر ہیں یا ریفیوجی بن کر آئے ہوئے ہیں، کام نہ ہونے کی وجہ سے پریشان بھی رہتے ہیں، کام کی تلاش تو وہ کریں لیکن جو بھی فارغ وقت ہے اُس میں لٹریچر لے کر باہر نکل جائیں اور تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیں۔گھر بیٹھنے سے تو مزید ڈ پریشن ہوتا ہے، اُس سے بھی بچ جائیں گے، اُس سے جان چھوٹے گی اور بعید نہیں کہ اس برکت سے اللہ تعالیٰ حالات بھی بہتر کر دے اور انشاء اللہ کر دے گا۔بہر حال اب میں مختصراً یہ بتانا چاہتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کس قسم کی جماعت دیکھنا چاہتے ہیں یا ہم سے کیا توقعات رکھتے ہیں۔سب سے پہلی بات تو آپ نے یہ بیان فرمائی کہ یہ سلسلہ اس لئے قائم ہوا ہے تا اللہ تعالیٰ پر ایمان بڑھے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 652 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) آپ نے فرمایا کہ قرآنِ شریف سے پتہ چلتا ہے کہ ایمان، تدبر اور غور سے بڑھتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 652 ایڈ یشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پس ہمیں اللہ تعالیٰ پر ایمان بڑھانے کے لئے سب سے پہلے تو اُس کی کتاب قرآنِ کریم کو با قاعدہ پڑھنا چاہئے اور اس پر غور کرنا چاہئے۔جتنا وسیع لٹریچر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہمارے لئے چھوڑ گئے ہیں اُس کو نہ پڑھ کر ہم اپنے آپ کو محروم کر رہے ہیں اور یہ محرومی بھی ایمان میں کمزوری کا باعث بنتی ہے۔پس اس طرف بھی ہمیں توجہ دینے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔پھر آپ نے فرمایا کہ ایمان نشانات سے بھی بڑھتا ہے۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 652 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نشان کے طور پر یہ بھی الہام فرمایا تھا کہ تیرے پاس دور دراز سے اور کثرت سے لوگ آئیں گے۔(ماخوذ از تذکرہ صفحہ نمبر 39 ایڈیشن چہارم مطبوعہ ربوہ ) اور یہ نظارے ہم نے آپ کی زندگی میں دیکھے اور تاریخ نے اس کو محفوظ کیا۔اور یہی نہیں بلکہ ہرسال، ہر ملک کے جلسہ میں یہ نظارے ہم دیکھتے ہیں اور آج بھی یہ نظارہ نظر آ رہا ہے کہ ملک کے طول وعرض سے صرف جمعہ پڑھنے کے لئے سفری صعوبتیں برداشت کر کے اور خرچ کر کے لوگ آئے ہیں۔