خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 276
خطبات مسرور جلد 11 276 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مئی 2013ء پہلے اُن کو شکوہ تھا کہ لٹریچر نہیں ملتا۔اب کہتے ہیں کہ اس علاقے کے لئے سپینش زبان میں لٹریچر تو ہمیں مل جاتا ہے لیکن اس میدان میں وسعت آنے سے جو لٹریچر کے ذریعہ سے آ رہی ہے، اب اُن کا مطالبہ یہ ہے اور اس کے لئے اُن کے دل میں تڑپ ہے اور لگن ہے کہ ہمیں جلد از جلد سپینش بولنے اور دینی علم رکھنے والے مبلغین بھی چاہئیں۔جماعت اپنے وسائل کے مطابق انشاء اللہ تعالیٰ کوشش کر رہی ہے کہ مبلغ دے لیکن اگر اتنی ڈیمانڈ ہے تو جماعتوں کو بھی اپنے بچوں اور نو جوانوں میں یہ روح پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ اپنے آپ کو دینی علم سیکھنے کے لئے جامعہ احمدیہ میں جانے کے لئے پیش کریں تا کہ یہاں کے مقامی ماحول اور زبان کے لحاظ سے اُن کو پیغام پہنچانے والے مہیا ہوسکیں۔یہ جذ بہ اور تبلیغ کا جوش یہاں کے صرف پرانے احمدیوں اور بڑی عمر کے لوگوں میں نہیں ہے بلکہ بعض نوجوانوں میں بھی میں نے دیکھا ہے۔بلکہ یہاں ایک نواحمدی ہیں جو شاید بے پوائنٹ (Bay Point) کے علاقے میں رہتے ہیں، مجھے ملنے آئے تو بڑے جوشیلے تھے کہ کس طرح ان لوگوں کو جو مقامی سپینش اور یجن (Origin) کے ہیں احمدیت اور حقیقی اسلام پہنچایا جائے اور جلد سے جلد پہنچایا جائے۔کہنے لگے کہ تبلیغ کرتا ہوں مجھے بائبل تو چالیس فیصد یاد ہے اور اب میں قرآنِ کریم کے دلائل بھی یاد کر رہا ہوں۔اور یہ اُن لوگوں کے لئے بھی پیغام ہے جو پرانے احمدی ہیں اور اس طرف توجہ نہیں دیتے۔بقول اُن نواحمدی کے اب عیسائیت سے لوگ دور جا رہے ہیں لیکن مذہب سے نہیں ، خدا تعالیٰ سے نہیں۔اُن کو خدا کی تلاش ہے اس لئے اس خلاء کو پورا کرنے کے لئے ہمیں آگے آنا چاہئے۔اُن کو سچے مذہب سے روشناس کروانے کے لئے، انہیں خدا تعالیٰ کے قریب کرنے کے لئے ہمیں بہت زیادہ تبلیغ کی ضرورت ہے۔بہر حال اُن کے جوش کو دیکھتے ہوئے اور خود مجھے بھی اس طرف توجہ پیدا ہوئی تھی میں نے مشنری انچارج صاحب سے بھی اس بارے میں تفصیلی گفتگو کی ہے کہ یہاں کے لئے سکیم بنائیں۔امیر صاحب کو بھی کہا ہے۔لیکن اگر ذیلی تنظیمیں بھی جماعتی نظام کے ساتھ مل کر ایک کوشش کریں اور وقف عارضی کی سکیمیں بنائیں اور جن علاقوں میں میدان سازگار ہیں وہاں زیادہ کام کریں تو ایک دفعہ کم از کم اس علاقے کے ہسپانوی لوگوں میں احمدیت اور حقیقی اسلام کا تعارف ہو جائے گا اور ہمیں یہ کروانا بہت ضروری ہے۔مطالبات تو اب اتنے زیادہ بڑھ گئے ہیں کہ اب یہ فکر نہیں کہ تعارف کس طرح کروایا جائے۔اللہ تعالیٰ نے ایسے راستے کھول دیئے ہیں کہ حیرت ہوتی ہے۔نہ صرف امریکہ میں بلکہ ساؤتھ امریکہ کے ملکوں میں گوئٹے مالا کے ہمارے احمدی ہیں، یہاں آئے ہوئے ہیں، بڑے پر جوش داعی الی اللہ ہیں۔کہنے لگے کہ ہمیں مبلغین دیں اور لٹریچر دیں جو مقامی سپینش زبان