خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 272 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 272

خطبات مسرور جلد 11 272 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 10 مئی 2013 ء احمدیوں کی اکثریت ہو جانا یہ غلبہ ہے؟ یہ بھی غلبہ کی ایک قسم ہے، لیکن اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ غلبہ دو طرح سے اور دوطریقوں سے ہوتا ہے۔ایک حصہ اُس کا نبی کے زمانے میں ہوتا ہے اور نبی کے ذریعہ سے ہوتا ہے۔اور دوسرا نبی کے بعد جو نبی کی تعلیم پھیلانے کے ذریعے سے ہی ہوتا ہے، لیکن ہوتا نبی کے بعد میں ہے۔اس کی وضاحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس طرح فرمائی ہے کہ: ”خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اُس کا کوئی مقابلہ نہ کر سکے۔“ یہ ایک غلبہ ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے انبیاء کو عطا فرماتا ہے۔فرمایا کہ: '' اسی طرح خدا تعالیٰ قومی نشانوں کے ساتھ اُن کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں، اُس کی تخمریزی انہی کے ہاتھ سے کر دیتا ہے۔“ (رساله الوصیت ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304) پس نبی کے ذریعہ سے غلبہ یہ ہے۔خدا تعالیٰ کے وجود کا دنیا کو پتہ چل جاتا ہے کہ خدا ہے۔دنیا کو یہ پتہ چل جاتا ہے کہ یہ دلائل اور برہان جو نبی دے رہا ہے، خدا تعالیٰ کی خاص تائید سے اُسے ملے ہیں۔نبی کے علم و عرفان کا کوئی مقابلہ نہیں کر سکتا۔پھر ایسے نشانات اُس کی تائید میں آتے ہیں جن سے سچائی ظاہر ہوتی ہے۔بیشک انبیاء کے مخالفین ان کی مخالفتوں میں بڑھ جائیں لیکن دلائل اور نشانات کو جھٹلا نہیں سکتے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفین جو ضدی تھے، اپنے باپ دادا کے طرز عمل پر زندگی گزارنا چاہتے تھے، اُن کے پاس دلیل تو کوئی نہیں تھی۔بس ضد تھی اور ہٹ دھرمی تھی۔اسی طرح برہان و دلائل سے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو عطا فرمائے ہیں آپ کے مخالفین کے پاس نہ آپ کے وقت میں کوئی رڈ تھا، دلیل تھی اور نہ آج ہے۔اسی طرح نشانات ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں چاند اور سورج کے گرہن کا نشان ہے۔پہلے نام نہاد علماء اس کا مطالبہ کرتے تھے کہ مہدی اور مسیح کے آنے کی نشانی چاند اور سورج گرہن ہے۔جب یہ ظاہر ہو گیا تو تا ویلیں کرنی شروع کر دیں۔پھر زلزلوں کے نشانات ہیں۔اس کے علاوہ بیشمار نشانات ہیں۔جنہوں نے نہیں ماننا، وہ نہیں مانتے۔لیکن سعید فطرت لوگ جماعت میں داخل ہوتے چلے جاتے ہیں۔جو تخمریزی اور پیچ نبی نے ڈالنا ہوتا ہے وہ ڈال دیتا ہے۔جو سچی تعلیم دنیا کو بتانی ہو وہ بتادیتا ہے۔جو وقت کے ساتھ ساتھ اپنا اثر دکھاتی رہتی ہے۔یہی حضرت مسیح موعود سے کئے گئے اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق ہوا۔اور آپ کا یہ پھینکا ہوا بیج اپنے وقت پر لہلہاتی ہوئی فصل بن کر ظاہر ہوتا رہا اور ہو رہا ہے۔پس یہ غلبہ کی ایک قسم ہے۔بیشک آپ کی زندگی میں چند لاکھ لوگوں نے آپ کے ہاتھ پر بیعت