خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 264 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 264

خطبات مسرور جلد 11 264 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 3 مئی 2013 ء ہے۔اس لئے انسان کو بہت پھونک پھونک کے اس دنیا میں اپنے قدم اُٹھانے کی ضرورت ہے۔ایمان لانا اور ایمان کا دعوی کر نا صرف کافی نہیں ہے بلکہ تقویٰ کی راہوں کی تلاش اور اُن پر عمل ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک مجلس میں فرماتے ہیں کہ :۔اسلام میں حقیقی زندگی ایک موت چاہتی ہے جو تلخ ہے۔لیکن جو اس کو قبول کرتا ہے آخر وہی زندہ ہوتا ہے۔حدیث میں آیا ہے کہ انسان دنیا کی خواہشوں اور لذتوں کو ہی جنت سمجھتا ہے حالانکہ وہ دوزخ ہے۔اور سعید آدمی خدا کی راہ میں تکالیف کو قبول کرتا ہے اور وہی جنت ہوتی ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ دنیا فانی ہے اور سب مرنے کے لیے پیدا ہوئے ہیں۔آخر ایک وقت آجاتا ہے کہ سب دوست، آشنا، عزیز واقارب جدا ہو جاتے ہیں۔اس وقت جس قدر نا جائز خوشیوں اور لذتوں کو راحت سمجھتا ہے وہ تلخیوں کی صورت میں نمودار ہو جاتی ہیں۔سچی خوشحالی اور راحت تقویٰ کے بغیر حاصل نہیں ہوتی اور تقویٰ پر قائم ہونا گویا زہر کا پیالہ پینا ہے۔(یعنی بظاہر بہت مشکل کام ہے ) و متقی کے لیے خدا تعالیٰ ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا ہے“۔(لیکن جب انسان تقویٰ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ساری راحتوں کے سامان مہیا کر دیتا ہے ) فرمایا: " مَنْ يَتَّقِ اللهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا وَيَرْزُقُهُ مِنْ حَيْثُ لَا يحتسب - (الطلاق 3-4) پس خوشحالی کا اصول تقویٰ ہے۔لیکن حصول تقوی کیلئے نہیں چاہئے کہ ہم شرطیں باندھتے پھریں۔تقویٰ اختیار کرنے سے جو مانگو گے ملے گا۔خدا تعالیٰ رحیم و کریم ہے۔تقویٰ اختیار 66 کرو جو چاہوگے وہ دے گا“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 90۔ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) یعنی شرط یہ نہیں رکھنی چاہئے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں یہ دے تو ہم نیکیاں کریں۔بلکہ نیکیاں کرو، تقویٰ اختیار کرو، اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو، پھر اللہ تعالیٰ سے ایسا تعلق پیدا ہوجاتا ہے جو مانگو وہ دیتا بھی ہے۔پس تقویٰ پر چلنے سے انسان اللہ تعالیٰ کے ہر قسم کے انعامات کو حاصل کرنے والا بن سکتا ہے، بن جاتا ہے۔لیکن ہمیں ہر وقت اپنے جائزے لیتے رہنے کی بھی ضرورت ہے کہ ہم نے دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا عہد کیا ہوا ہے۔اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے تقویٰ پر چلنے کا عہد کیا ہے۔اس لئے ہم نے اپنے قول وفعل کو ایک کرنا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : تقویٰ کا مرحلہ بڑا مشکل ہے۔اُسے وہی طے کر سکتا ہے جو بالکل خدا تعالیٰ کی مرضی پر چلے۔جو وہ چاہے وہ کرے۔اپنی مرضی نہ کرے۔بناوٹ سے کوئی حاصل کرنا چاہے تو ہر گر نہ ہوگا۔“ ( تقویٰ ایسی