خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 265
خطبات مسرور جلد 11 265 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 3 مئی 2013 ء چیز نہیں کہ بناوٹ سے حاصل ہو جائے۔یہ کبھی نہیں ہو سکتا) اس لیے خدا کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اسی طرح سے ہوسکتا ہے کہ ایک طرف تو دعا کرے اور ایک طرف کوشش کرتا رہے۔خدا تعالیٰ نے دعا اور کوشش دونو کی تاکید فرمائی ہے“۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 492۔ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ : کوئی پاک نہیں بن سکتا جب تک خدا تعالیٰ نہ بناوے۔جب خدا تعالیٰ کے دروازہ پر تذلیل اور عجز سے اس کی روح گرے گی تو خدا تعالیٰ اس کی دعا قبول کرے گا اور وہ متقی بنے گا اور اس وقت وہ اس قابل ہو سکے گا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دین کو سمجھ سکے۔(عاجزی اور تذلل اختیار کرو۔اس کے لئے اللہ تعالیٰ کا فضل چاہئے۔فضل ہو گا تو یہ ملے گا۔اور جب یہ ملے گا تو تقویٰ حاصل ہوگا۔اور جب تقویٰ حاصل ہوگا تو تبھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دین یا اسلام کی حقیقت کو انسان سمجھ سکے گا )۔فرمایا: ”اس کے بغیر جو کچھ وہ دین دین کر کے پکارتا ہے اور عبادت وغیرہ کرتا ہے وہ ایک رسمی بات اور خیالات ہیں کہ آبائی تقلید سے سن سنا کر بجالاتا ہے۔( کہ باپ دادا یہ کر رہے ہیں،مسلمانوں کے گھر میں پیدا ہوا، مسلمان ہوں۔احمدی کے گھر میں پیدا ہوا، احمدی مسلمان ہوں۔تو اُس کی تقلید میں یہ کام کر رہا ہے۔یہ نہیں، اصل چیز تقویٰ ہے اور تقویٰ حاصل ہوتی ہے کوشش اور عمل سے، عاجزی اور انکساری اختیار کرنے سے، دعا کرنے سے۔فرمایا کہ یہ جو آبائی تقلید سے سن سنا کر بجالاتا ہے۔” کوئی حقیقت اور روحانیت اس کے اندر نہیں ہوتی۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 493۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) 66 صرف نری تقلید جو ہے، اُس سے روحانیت پیدا نہیں ہوتی۔پھر آپ فرماتے ہیں کہ : ” تقومی حاصل کرو کیونکہ تقویٰ کے بعد ہی خدا تعالیٰ کی برکتیں آتی ہیں۔متقی دنیا کی بلاؤں سے بچایا جاتا ہے۔( ملفوظات جلد سوم صفحہ 572۔ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) اللہ تعالیٰ کے فضل سے من حیث الجماعت بیشک اللہ تعالیٰ کے بیشمار فضل ہم جماعت پر دیکھتے ہیں، جماعت کی ترقی بھی ہم دیکھتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا جماعت کے ساتھ ایک خاص سلوک بھی ہم دیکھتے ہیں کہ کس طرح انتہائی نامساعد حالات میں بھی جماعت کو اللہ تعالیٰ دشمن کے منہ سے نکال لاتا ہے۔جماعت کی ایک اچھی تعداد یقیناً تقویٰ پر چلنے والوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والوں کی بھی ہے۔لیکن ہمیں کوشش کرنی چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے عہد بیعت باندھ کر ہم میں سے ہر ایک وہ معیار تقویٰ حاصل کرے، وہ خدا تعالیٰ کا قرب ہمیں حاصل ہو جو ایک حقیقی مسلمان