خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 260 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 260

خطبات مسرور جلد 11 260 18 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 3 مئی 2013 ء خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مورخہ 03 مئی 2013 ء بمطابق 03 ہجرت 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللهَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ الله خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ - وَلَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ نَسُوا اللهَ فَأَنْسُهُمْ آنْفُسَهُمْ أُولَئِكَ هُمُ الْفُسِقُونَ (الحشر 19-20) ان آیات کا ترجمہ ہے کہ : اے وہ لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور ہر جان یہ نظر رکھے کہ وہ کل کے لئے کیا آگے بھیج رہی ہے۔اور اللہ کا تقوی اختیار کرو۔یقینا اللہ اس سے جو تم کرتے ہو ہمیشہ باخبر رہتا ہے۔اور ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا تو اللہ نے انہیں خود اپنے آپ سے غافل کر دیا۔یہی بدکردار لوگ ہیں، فاسق لوگ ہیں۔اللہ تعالیٰ نے ایک مومن کے لئے بنیادی شرط تقویٰ رکھی ہے۔اس بارے میں قرآنِ کریم میں بیشمار آیات ہیں جن میں تقویٰ اختیار کرو، تقویٰ پر قائم رہو کی تلقین مختلف حوالوں سے اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے، مختلف احکامات دیئے ہیں۔اور ان احکامات پر عمل کرنے والوں کو تقویٰ پر چلنے والا یا متقی کہا ہے۔اور عمل نہ کرنے والوں کو اُن کے انجام سے خوف دلایا۔تقویٰ کیا ہے؟ اس کی جو تعریف یا مختصر الفاظ میں خلاصہ جو قرآنِ کریم سے ہمیں ملتا ہے، وہ یہ لیا جا سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کی رضا کو ہر چیز پر مقدم رکھتے ہوئے ، خدا تعالیٰ کو واحد و یگانہ اور سب طاقتوں کا منبع سمجھتے ہوئے اُس کے حقوق ادا کرنا اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے اُس کی مخلوق کے حقوق بھی ادا کرنا ہے۔