خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 261
خطبات مسرور جلد 11 261 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 3 مئی 2013 ء حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اس کو ایک جگہ اس طرح بیان فرمایا ہے کہ: ” خدا تعالیٰ کی امانتوں اور ایمانی عہدوں کی حتی الوسع رعایت کرنا اور سر سے پیر تک جتنے قومی اور اعضاء ہیں، جن میں ظاہری طور پر آنکھیں اور کان اور ہاتھ اور پیرا اور دوسرے اعضاء ہیں اور باطنی طور پر دل اور دوسری قو تیں اور اخلاق ہیں، ان کو جہاں تک طاقت ہو، ٹھیک ٹھیک محلتِ ضرورت پر استعمال کرنا اور ناجائز مواضع سے روکنا اور ان کے پوشیدہ حملوں سے متنبہ رہنا اور اسی کے مقابل پر حقوق العباد کا بھی لحاظ رکھنا، یہ وہ طریق ہے جو انسان کی تمام روحانی خوبصورتی اس سے وابستہ ہے۔(ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 209-210) پس یہ وہ معیار ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ہمیں بیان فرمایا اور اس کی ہم سے توقع بھی کی۔چند جمعے پہلے بھی میں نے امانتوں اور عہدوں کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی تھی کہ ان کی ادا ئیگی ایمان سے وابستہ ہے اور عہدیداروں کے حوالے سے باتیں ہوئی تھیں۔آج میں اس کی کچھ مزید بات کرتا ہوں۔آج کے اس دور میں ایمان لانے والوں میں سے احمدی وہ خوش قسمت ہیں جن کو اس بار یکی سے خدا تعالیٰ سے تعلق کی طرف توجہ دلائی گئی۔یہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ہم پر احسان ہے کہ کھول کھول کر اُن اعلیٰ مدارج کے راستے دکھاتے ہیں جن سے ایک مومن خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کر سکتا ہے۔یقیناً ہر انسان کا معیار، نیکی کا معیار بھی ، فراست کا معیار بھی سمجھ کا معیار بھی علم کا معیار بھی مختلف ہوتا ہے، ہر ایک کا معیار ایک جیسا نہیں ہو سکتا۔اس لئے ہر ایک کو یہ حکم ہے کہ اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کی انتہا تک اللہ تعالیٰ سے کئے گئے عہد اور اُس کی امانتوں کی ادائیگی کو پہنچاؤ۔اگر کوشش کر کے ہر مومن یہ انتہا حاصل کرنے کی طرف متوجہ رہے گا تو تقویٰ کی راہوں پر چلنے والا شمار ہوگا۔ہاتھ ، پیر، کان، آنکھ کا استعمال ہے تو ان کے صحیح استعمال کا حکم ہے۔جن باتوں کے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے، اُن سے رُکنا فرض ہے۔یہ ظاہری اعضاء صرف مخلوق کے حق کی ادائیگی کے لئے نہیں ہیں کہ ان سے مخلوق کا حق ادا کرو، یا اگر حق ادا نہیں کرتے ، عدم ادائیگی ہے تو تم پوچھے جاؤ گے۔بلکہ بہت سے ایسے کام ہیں جن کا مخلوق سے براہِ راست تعلق نہیں ہوتا اور اُن سے مخلوق کو کوئی نقصان یا فائدہ بھی نہیں پہنچ رہا ہوتا۔اگر ہم گہری نظر سے دیکھیں تو جو بعض عمل انسان کرتا ہے انسان کی اپنی ذات کو ہی اُس کا فائدہ اور نقصان پہنچ رہا ہوتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اُس کے کرنے