خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 258
خطبات مسرور جلد 11 258 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اپریل 2013ء اور معیار ہیں اور دوسروں کے لئے کچھ اور۔پس ہر احمدی کو ، چاہے وہ جماعتی خدمات پر مامور عہد یدار ہے یا عام احمدی ہے اس بارے میں فکر کی ضرورت ہے کہ ہمارے سامنے جو دنیا کو انصاف دینے اور سچائی پھیلانے کا اتنابڑا کام ہے، اُس کو ہم اپنی اصلاح کرتے ہوئے کس طرح سرانجام دے سکتے ہیں تا کہ خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں اور اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق اُس کی مغفرت کی چادر میں لپٹ سکیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے ہاں اجر پانے والے ٹھہر سکیں۔یقیناً اس کے لئے ہمیں خدا تعالیٰ کے احکامات پر نظر رکھنی ہوگی۔اُن پر عمل کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : خدا تعالیٰ کی حفاظت جیسا اور کوئی محفوظ قلعہ اور حصار نہیں۔لیکن ادھوری بات فائدہ نہیں پہنچا سکتی۔کیا کوئی کہہ سکتا ہے کہ جب پیاس لگی ہوئی ہو تو صرف ایک قطرہ پی لینا کفایت کرے گا یا شدت بھوک سے ایک دانہ یا لقمہ سے سیر ہو جاوے گا ؟ بالکل نہیں۔بلکہ جب تک پورا سیر ہو کر پانی نہ پئے یا کھانا نہ کھالے تہستی نہ ہو گی۔اسی طرح جب تک اعمال میں کمال نہ ہو وہ ثمرات اور نتائج پیدا نہیں ہوتے جو ہونے چاہئیں۔ناقص اعمال اللہ تعالیٰ کو خوش نہیں کر سکتے اور نہ وہ بابرکت ہو سکتے ہیں۔اللہ تعالیٰ کا یہی وعدہ ہے کہ میری مرضی کے موافق اعمال کرو۔پھر میں برکت دوں گا“۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 639 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) پس اللہ تعالیٰ نے ہمارے ذمہ دنیا کو امن اور سلامتی کا پیغام پہنچانے کی جو ذمہ داری ڈالی ہے اُس کے لئے ہر سطح پر ہمیں انصاف کو قائم کرنا ہو گا۔سچائی کو قائم کرنا ہوگا۔انصاف اللہ تعالیٰ کے احکامات کو گہرائی میں جا کر جاننے اور عمل کرنے سے قائم ہوتا ہے۔حقوق اللہ کی ادائیگی میں بھی گہرائی میں جا کر اُن کو جاننے اور اُن پر عمل کرنے کی ضرورت ہے اور حقوق العباد کی ادائیگی میں بھی اللہ تعالیٰ کے تمام احکامات کو گہرائی میں جا کر جاننے اور اُن پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے تا کہ جہاں ہم اپنے گھروں اور اپنے معاشرے کو انصاف پر قائم رکھتے ہوئے جنت نظیر بنائیں، وہاں اسلام کی خوبصورت تعلیم کی روشنی میں تبلیغ کا حق بھی ادا کرنے والے ہوں۔دنیا پر حقیقی انصاف کی تعلیم واضح کر کے اُسے تباہی کے گڑھے میں گرنے سے بچانے والے ہوں۔دنیا بڑی خوفناک تباہی کی طرف بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔نہ مسلمانوں میں انصاف رہا ہے، نہ غیر مسلموں میں انصاف رہا ہے اور نہ صرف انصاف نہیں رہا بلکہ سب ظلموں کی انتہاؤں کو چھور ہے ہیں۔پس ایسے وقت میں دنیا کی آنکھیں کھولنے اور ظلموں سے باز رہنے کی طرف توجہ دلا کر تباہی کے