خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 257 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 257

خطبات مسرور جلد 11 257 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اپریل 2013ء متوجہ کریں گی جب ہمارے عملی اظہار بھی اُس کے مطابق ہورہے ہوں گے۔پس اللہ تعالیٰ نے یہ فرما کر ایک بہت بڑی ذمہ داری ہم پر ڈالی ہے کہ قوام بن کر کھڑے ہو جاؤ۔یعنی انتہائی گہرائی میں جا کر ( کام کرو )۔قوام کا مطلب ہے کہ انتہائی گہرائی میں جا کر اور مسلسل اور مستقل مزاجی سے کوشش کرتے ہوئے انصاف قائم کرو یا کوئی بھی کام کرو۔یہاں کیونکہ انصاف کا ذکر ہے اس لئے گہرائی میں جا کر انصاف کے تمام تقاضے پورے کرو اور پھر مسلسل اور مستقل مزاجی سے اس کو قائم کرنے کی کوشش کرو۔یہ گہرائی میں جا کر اور انتھک اور مسلسل کوشش ہے جس کے نتیجہ میں دنیا میں انصاف بھی قائم ہوگا اور سلامتی کا اور امن کا پیغام بھی دنیا کو ملے گا۔پس آج دنیا میں انصاف قائم کرنے ، سچائی کو پھیلانے، امن اور سلامتی کی ضمانت بننے کا کام مسلسل اور باریک در باریک پہلوؤں کو سامنے رکھتے ہوئے کرنا ایک مومن کا کام ہے، ایک حقیقی احمدی کا کام ہے۔اس زمانے میں احمدی مسلمان ہی ہیں جو اس دعوی کا اظہار کرتے ہیں کہ ہم حقیقی مسلمان ہیں، ہم حقیقی مومن ہیں کیونکہ ہم نے زمانے کے امام کو مانا ہے۔کیونکہ ہم نے اسلام کی حقیقی تعلیم سے آگا ہی حاصل کی ہے اور زمانے کے امام کو مان کر صرف ذوقی اور علمی آگاہی اللہ تعالیٰ کے احکامات کی حاصل نہیں کی بلکہ ہم ان احکامات پر کار بند ہونے کا عملی نمونہ بننے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا ہمیں یہ جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ کس حد تک ہم انصاف پر قائم ہیں۔کس حد تک ہم سچائی پر قائم ہیں۔ہم اپنے دلوں کو ٹولیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جس طرح اپنے خلاف اور اپنے والد کے خلاف گواہی دے کر دنیاوی فائدے کو کوئی اہمیت نہیں دی تھی، آج ہم آپ سے جڑنے کا دعوی کر کے یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں یا نہیں؟ اگر ہم حقیقت میں یہ معیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہوں تو پھر یہ دیکھنے اور سوچنے والی بات ہے کہ ہمارے گھروں میں بے اعتمادی کی فضا کیوں ہے؟ جن گھروں میں یہ بے اعتمادی کی فضا ہے وہ جائزے لیں میاں بیوی کے تعلقات میں پیار ومحبت کیوں نظر نہیں آتا۔بچے کیوں اس وجہ سے ڈسٹرب ہیں؟ بھائی بھائی کے رشتے میں دراڑیں کیوں پڑ رہی ہیں؟ بدظنیوں کی وجہ سے یا سچائی کی کمی کی وجہ سے تعلقات کیوں ٹوٹ رہے ہیں؟ دوستی کی بنیاد پر شروع کئے گئے کاروبار ناراضگیوں اور مقدموں پر کیوں منتج ہورہے ہیں؟ قضاء میں مقدمات کی تعداد میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے؟ یا عدالتوں میں کیوں زیادہ مقدمات احمدیوں کی طرف سے بھی جانے لگ گئے ہیں؟ ظاہر ہے دلوں کی حالت اور ظاہری حالت یا قول میں تضاد ہے۔اپنے لئے کچھ