خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 256
خطبات مسرور جلد 11 تلقین فرمائی ہے۔256 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اپریل 2013ء فرماتا ہے یا درکھو کہ تمہاری جھوٹی گواہیوں سے تم دنیاوالوں کو تو دھوکہ دے سکتے ہو لیکن خدا تعالیٰ کو نہیں۔فرمایا فَإِنَّ اللهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا - که یقینا اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل اور ہر بات سے اچھی طرح باخبر ہے۔اُس سے کچھ چھپایا نہیں جاسکتا۔پس ایک طرف یہ دعویٰ کہ ہم معاشرے میں امن اور سلامتی پھیلانا چاہتے ہیں۔سچائی پر قائم ہوتے ہوئے دنیا کو ہدایت کے راستے دکھانا چاہتے ہیں۔اور دوسری طرف اگر ہم اپنے قول و فعل میں معمولی دنیاوی فائدوں کے لئے تضا در کھنے والے ہوں تو ہم سچائی پر قائم ہونے والے نہیں، انصاف کو قائم کرنے والے نہیں، امن اور سلامتی کو پھیلانے والے نہیں بلکہ معاشرے کے فتنہ وفساد کا حصہ بن رہے ہوں گے۔پس ایک مومن کا ظلم کے خلاف آواز اُٹھانے کا دعویٰ اور ظلم روکنے کا دعوی تبھی سچا ہوسکتا ہے جب وہ انصاف کے اعلیٰ معیار قائم کرتا ہے۔سچائی کے اعلیٰ معیار قائم کرتا ہے۔اپنی گواہیوں کو خدا تعالیٰ کے احکامات کے تابع کرتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمارے یہ معیار کن بلندیوں پر دیکھنا چاہتا ہے۔اس کے لئے سورۃ مائدہ کی جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں فرمایا کہ صرف تمہارے معاشرے میں، تمہارا جو چھوٹا ماحول ہے، اُسی میں تمہاری گواہیاں انصاف کے قائم کرنے کے لئے نہ ہوں بلکہ تمہارے دشمن بھی اگر تمہارے سے انصاف حاصل کرنا چاہیں تو وہ بھی انصاف حاصل کرنے والے ہوں۔اُن کو بھی یہ یقین ہو کہ تم جو بات کہو گے حق و انصاف کی کہو گے۔یا دشمن پر یہ ظاہر کر دو کہ ایک مومن ہر کام تقویٰ پر قائم رہتے ہوئے کرتا ہے۔خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کرتا ہے۔کسی کی دشمنی ہمیں انصاف اور سچائی سے دور نہیں ہٹا سکتی۔ہمارے دل تو دشمنی سے پاک ہیں۔ہم تو یہ اعلان کرتے ہیں کہ ہمیں کسی سے نفرت یا دشمنی نہیں ہے۔لیکن دشمن کے دل کے کینے ، بغض اور دشمنی بھی ہمیں اس بات کی طرف مائل نہیں کرے گی کہ ہم غلط طور پر اُسے نقصان پہنچانے کے لئے انصاف سے ہٹی ہوئی بات کہیں گے۔یہ خوبصورت تعلیم ہے جو ہم غیروں کے سامنے پیش کرتے ہیں اور اُن پر اسلامی تعلیم کی خوبیاں واضح کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔وہ ہماری باتیں سن کر اسلام کے بارے میں مزید جاننا چاہتے ہیں۔پس ہمیں ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ ہماری باتیں بیشک دنیا کو ہماری طرف متوجہ کرتی ہیں لیکن ہماری سچی گواہی دینے کی باتیں ، ہماری انصاف کے قائم کرنے کی باتیں ، ہماری معاشرے میں دشمنیاں دور کرنے کی باتیں ، ہماری امن اور سلامتی کا پیغام پہنچانے کی باتیں حقیقت میں دنیا کو اُس وقت اپنی طرف