خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 20 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 20

خطبات مسرور جلد 11 20 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 11 جنوری 2013ء میں چشتیا نہ فرقہ کا خادم تھا ، جو ذکر پاس انپاس ، یعنی اللہ ہو ، اور ذکر لا الہ جسے چشتیہ خاندان میں ذکر سلطان الاذکار سمجھتے ہیں وہ کیا کرتا تھا۔خیر جس قدر واقفیت تھی میں یہ پڑھتا تھا۔میں نے اور ان ذکروں کے علاوہ بھی جتنے وظیفے مجھے پتہ تھے، وہ بھی لکھ دیئے۔( کل وظیفے لکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھیج دیئے )۔حضرت صاحب نے اس کا جواب اس طرح دیا کہ میراز مانہ ابتدائی محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہے۔( یعنی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ تھا، وہ میرا زمانہ ہے) جو ذکر تم نے لکھے ہیں، یہ سب کرنے فضول ہیں منع ہیں۔اس زمانے میں یہ تاثیر نہیں کریں گے۔میرے جو ذکر ہیں وہ وہی ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے تھے۔یعنی سورۃ فاتحہ پڑھو، الحمد شریف ، درود شریف پڑھو، استغفار بہت زیادہ کرو۔لاحول پڑھو۔یہ فیض رساں ہوں گے، ان سے فائدہ ہوگا۔اور فرمایا کہ میراگل درود شریف پر عمل ہے۔جتنے بھی درود شریف ہیں جو حدیث شریف میں آئے ہیں اُن پر میرا اعمل ہے۔اُن سب کو میں ٹھیک مانتا ہوں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا کہ شرط یہ ہے کہ جس وقت درود شریف پڑھو، اگر تم سمجھتے ہو کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی زیارت ہو جائے تو محبت رسول مقبول کی دل میں قائم کرو۔اور محبت بچوں کی ( یعنی ہر ایک کی ) چھوڑ دو۔ہر دوسری محبت کو چھوڑ دو اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کو سب سے زیادہ دل میں قائم کرو۔کہتے ہیں میں نے درود ہزارہ پڑھنا شروع کر دیا۔(اُس وقت کیونکہ غیر احمدیوں کا بھی اثر تھا ) درود ہزارہ پڑھنا شروع کر دیا۔( یہ ہزارہ درود شریف بھی ان کے ہاں ایک ہے جو تہجد کے وقت ایک ہزار مرتبہ درود شریف پڑھتے ہیں۔اللّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَ عَلَى آلِ مُحَمَّدٍ کے بعد پھر ان کے کچھ اپنے الفاظ ہیں۔بہر حال اس کو یہ درود ہزارہ کہتے ہیں۔کیونکہ نئے نئے احمدی تھے، کہتے ہیں یہ درود شریف میں نے پڑھنا شروع کر دیا۔درود ہزارے کا مطلب ہے کہ ہزار دفعہ درود شریف تہجد کی نماز کے وقت۔عام طور پر یہ مشہور ہے کہ اگر اُس کو پڑھا جائے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہو جاتا ہے۔بہر حال کہتے ہیں میں نے پڑھنا شروع کیا۔تھوڑے ہی دن گزرے، خواب اور عالم شہود میں مرزا صاحب تشریف لائے اور مجھ کو ہاتھ پکڑ کر اپنے ساتھ لے گئے اور نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے دربار میں حاضر کر دیا۔وہاں لوگ قطاریں باندھے کھڑے تھے اور سرور کائنات تختِ مبارک پر بیٹھے تھے۔مگر ہم کو پچھلی سطر میں پچھلی لائن میں جگہ ملی۔جناب مرزا صاحب نے بآواز بلند عرض کیا کہ اے سرور کائنات ! محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم۔ہم نے سوہنے خان کی بابت اچھا انتظام کر دیا۔اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور جو کچھ سو ہنے خان کی بابت انتظام کیا ہے، ہم نے منظور کیا