خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 253 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 253

خطبات مسرور جلد 11 253 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 26 اپریل 2013ء فقدان ہے یا وہ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کرتا۔بلکہ فوری طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ دیکھو فلاں احمدی ہے، دعوے تو اپنی نیکیوں کے یہ لوگ بڑے کرتے ہیں، جماعت اس زمانے میں اپنے آپ کو بڑا انصاف کے قیام کا علمبردار سمجھتی ہے لیکن اس میں شامل لوگ ایسے ایسے ظلموں میں ملوث ہیں۔کئی غیر از جماعت لوگ جو احمدیوں کے ساتھ کاروبار بھی کر رہے ہیں، جب اُن کے سامنے کاروباری مسائل اُٹھتے ہیں، مقدمے چلتے ہیں تو وہ مجھے یہی باتیں لکھتے ہیں کہ فلاں احمدی تھا، ہم نے اعتبار کیا اور اب یہ یہ مسائل ہمارے پیدا ہور ہے ہیں اور انصاف سے جو گواہی دینی چاہئے وہ نہیں وہ دے رہا۔انصاف کرتے ہوئے جو میرا حق ادا کرنا چاہئے وہ ادا نہیں کر رہا۔پس ایک احمدی اپنے عمل سے جماعت احمدیہ کا ایک Image یا تصور خراب کر رہا ہوتا ہے،ایک غلط تاثر قائم کر کے جماعت کی بدنامی کا باعث بن رہا ہوتا ہے اور اس وجہ سے وہ زیادہ گناہگار ٹھہرتا ہے کہ دعوی نیکیوں کا ہے اور عمل کچھ اور ہے۔یہ فکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی تھی جس وجہ سے آپ نے فرمایا تھا کہ ہماری طرف منسوب ہو کر پھر ہمیں بدنام نہ کرو۔(ماخوذ از ملفوظات جلد چہارم صفحہ 145 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) یہ خلاصہ آپ کے الفاظ کا میں نے بیان کیا ہے۔یعنی کسی احمدی سے، کسی بھی سطح پر ایسا فعل سرزد نہ ہو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی جماعت کی بدنامی کا موجب بنے۔ان آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں۔اُن پر عمل ہر سطح پر کیا جانا ضروری ہے۔تبھی یہ باتیں فطرت کا حصہ بن کر برائیوں سے روکنے والی بنتی ہیں۔ہر سطح پر ان باتوں کا خیال رہتا ہے کہ ہمارے عمل کیا ہونے چاہئیں؟ اور اگر اس پر صحیح طرح عمل ہو اور یہ فطرت کا خاصہ بن جائے تو کبھی کسی قسم کا غلط کام، بے انصافی یا سچائی سے دوری یا دوسرے کو نقصان پہنچانے کی سوچ انسان میں پیداہی نہیں ہوسکتی۔پس اللہ تعالیٰ کی خوبصورت تعلیم اور اسلام کی خوبصورت تصویر کا اظہار اُس وقت ہوگا جب ہر احمدی ہر سطح پر اس تعلیم کا اظہار اپنے قول اور اپنے عمل سے کرے گا۔ان آیات میں بیان شدہ معیاروں کے حصول کی کوشش ہر سطح پر اپنے گھروں میں بھی ، اپنے معاشرے میں بھی ، اپنوں کے ساتھ بھی ، غیروں کے ساتھ بھی اور دشمنوں کے ساتھ بھی تعلقات میں ہونی چاہئے۔تبھی ہم حقیقی مومن بن سکتے ہیں۔تبھی اس زمانے کے امام کے ساتھ جڑنے کے دعوے اور اعلان میں ہم حق بجانب کہلا سکتے ہیں ورنہ ہمارے دعوے