خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 248 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 248

خطبات مسرور جلد 11 248 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء اپنی زندگی میں صاف کر دیا تھا۔تحریک جدیدا اور وقف جدید کا چندہ اپنے والدین، دادا اور پھوپھیوں وغیرہ بلکہ انگلی نسلوں میں دو پوتیوں کے بچوں کی طرف سے بھی ادا کیا کرتے تھے۔بڑے نمازی، تہجد گزار تھے۔ربوہ کے جو خاص لوگ ہیں ان کرداروں میں سے ایک تھے۔جو مرضی ان کو کوئی کہہ دے، میں نے نہیں دیکھا کہ کبھی انہوں نے آگے سے جواب دیا ہو۔خاموشی سے اور ہنستے ہوئے ہر بات کو سنتے۔انتہائی شریف النفس، درویش صفت، خاموش طبع انسان تھے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔یہاں کے ہمارے جو صدر انصاراللہ ہیں ، چوہدری وسیم صاحب، ان کے بڑے بیٹے ہیں۔دوسرا جنازہ جو ہے وہ مکرمہ قیصرہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم صاحبزادہ مرزا اظہر احمد صاحب کا ہے۔ان کی وفات 13 را پریل کو ہوئی ہے۔تقریباً 70 سال ان کی عمر تھی۔یہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت ام ناصر رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی بہو تھیں۔ان کا کینسر ایک دم پھیل گیا جس کی وجہ سے ان کی وفات ہوئی۔بڑے عمدہ اخلاق کی مالک تھیں۔بڑی ہنس مکھ ملنسار، خلافت سے بڑا تعلق خاص طور پر میں نے نوٹ کیا۔خلافت کے بعد ان کا مجھ سے بہت زیادہ تعلق بڑھ گیا۔مالی قربانیوں میں بھی کچھ حصہ لیتی تھیں اور غریبوں کی بہت زیادہ ہمدرد تھیں۔ان کے بعض غریب رشتہ داروں نے یا کم مالی کشائش والے رشتہ داروں نے بھی مجھے لکھا کہ ہمیشہ ہمارا خیال رکھا اور ان کو عزت دی، احترام کیا۔ضرورتمندوں اور مستحقین کی خاموشی کے ساتھ مدد کیا کرتی تھیں۔ملازموں کا بلکہ اُن کے رشتہ داروں کا بھی خیال رکھتی تھیں۔جلسہ کے دنوں میں مہمانوں کی مہمان نوازی بہت کیا کرتی تھیں۔آپ کے والد حضرت سعید احمد خان صاحب اور دادا مکرم کرنل اوصاف علی خان صاحب تھے جو حضرت نواب محمد علی خانصاحب کے خالہ زاد بھائی تھے۔اور مرحومہ عبدالمجید خان صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نواسی اور حضرت خان محمد خان صاحب کپورتھلوی کی پڑ نواسی تھیں۔پہلے آپ کے والد صاحب نے بیعت کی اور بعد میں آپ کے دادا نے۔آپ کے والد صاحب پوچھنے پر کہ آپ نے پہلے کیوں احمدیت قبول کر لی ؟ تو بڑے لہک کے یہ مصرعہ پڑھا کرتے تھے کہ پسند آیا ہمیں یہ دیں، ہم ایمان لے آئے۔ان کے جو پڑ نانا تھے، حضرت خان محمد خان صاحب، وہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت پرانے صحابہ میں سے تھے۔اور یکم جنوری 1904ء کو اُن کی وفات ہوئی ہے، تو دوسرے دن نماز کے وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام مسجد میں تشریف لائے اور فرمایا کہ آج مجھے الہام ہوا ہے کہ اہلِ بیت میں سے کسی شخص کی وفات ہوئی ہے تو غالباً حضرت خلیفہ اسیح الاول نے کہا کہ حضور کے اہلِ بیت تو خدا