خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 244 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 244

خطبات مسرور جلد 11 244 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء ہے وہ یہ ہے۔اِنَّ اللهَ لا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيَّرُوا مَا بِأَنْفُسِهِمْ - (الرعد : 12 ) یہ خدا تعالیٰ کا کلام ہے اور اس پر لعنت ہے جو خدا تعالیٰ پر افترا کرے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میرے ارادے کی اس وقت تبدیلی ہوگی جب دلوں کی تبدیلی ہوگی۔پس خدا تعالیٰ سے ڈرو اور اس کے قہر سے خوف کھاؤ کوئی کسی کا ذمہ دار نہیں ہوسکتا۔معمولی مقدمہ کسی پر ہو تو اکثر لوگ وفا نہیں کر سکتے۔پھر آخرت میں کیا بھروسہ رکھتے ہو۔جس کی نسبت فرمایا۔يَوْمَ يَفِرُّ الْمَرُ مِنْ أَخِيهِ - (عبس : 35 )‘۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 566۔ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) اُس دن یعنی قیامت والے دن بھائی بھائی سے دور ہٹے گا ، بھاگے گا۔فرمایا: ” دیکھو جس طرح جو شخص اللہ اور اُس کے رسول اور کتاب کو ماننے کا دعوی کر کے اُن کے احکام کی تفصیلات مثلاً نماز ، روزہ، حج، زکوۃ، تقویٰ، طہارت کو بجانہ لا وے اور اُن احکام کو جو تزکیۂ نفس، ترک شر اور حصول خیر کے متعلق نافذ ہوئے ہیں چھوڑ دے، وہ مسلمان کہلانے کا مستحق نہیں ہے اور اُس پر ایمان کے زیور سے آراستہ ہونے کا اطلاق صادق نہیں آسکتا۔اسی طرح سے جو شخص مسیح موعود کو نہیں مانتا، یا ماننے کی ضرورت نہیں سمجھتا وہ بھی حقیقت اسلام اور غایت نبوت اور غرض رسالت سے بے خبر محض ہے اور وہ اس بات کا حق دار نہیں ہے کہ اس کو سچا مسلمان، خدا اور اُس کے رسول کا سچا تابعدار اور فرمانبردار کہ سکیں کیونکہ جس طرح سے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے قرآن شریف میں احکام دیئے ہیں اُسی طرح سے آخری زمانے میں ایک آخری خلیفہ کے آنے کی پیشگوئی بھی بڑے زور سے بیان فرمائی ہے اور اُس کے نہ ماننے والے اور اُس سے انحراف کرنے والوں کا نام فاسق رکھا ہے۔قرآن اور حدیث کے الفاظ میں فرق ( جو کہ فرق نہیں بلکہ بالفاظ دیگر قرآن شریف کے الفاظ کی تفسیر ہے ) صرف یہ ہے کہ قرآن شریف میں خلیفہ کا لفظ بولا گیا ہے اور حدیث میں اسی خلیفہ آخری کو مسیح موعود کے نام سے تعبیر کیا گیا ہے۔پس قرآن شریف نے جس شخص کے مبعوث کرنے کے متعلق وعدے کا لفظ بولا ہے اور اس طرح سے اُس شخص کی بعثت کو ایک رنگ کی عظمت عطا کی ہے، وہ مسلمان کیسا ہے جو کہتا ہے کہ ہمیں اس کے ماننے کی ضرورت ہی کیا ہے؟ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 551۔ایڈیشن 2003 ء مطبوعہ ربوہ ) پھر آپ فرماتے ہیں: ”اے نادان قوم ! میں تمہیں کس سے مشابہت دوں۔تم ان بدقسمتوں سے مشابہ ہو جن کے گھر کے قریب ایک فیاض نے ایک باغ لگایا اور اُس میں ہر ایک قسم کا پھلدار درخت نصب کیا اور اس کے اندر ایک شیریں نہر چھوڑ دی جس کا پانی نہایت میٹھا تھا۔اور اس باغ میں بڑے بڑے سایہ دار درخت لگائے جو