خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 241 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 241

خطبات مسرور جلد 11 241 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 19 اپریل 2013ء بے انتہا فائدہ اُٹھایا جا رہا ہے۔اُسے لٹایا جا رہا ہے اور جو رعایا ہے وہ بھوکی مر رہی ہے۔کچھ عرصہ ہوائی وی پر ایک پروگرام آیا تھا، ڈوکومنٹری دکھائی گئی تھی جس میں یہ حقائق بیان ہوئے تھے کہ کس طرح اُن سے سلوک کیا جاتا ہے، کس طرح کیسی حالت میں وہ لوگ رہتے ہیں۔اسی طرح دوسرے اسلامی ممالک کا حال ہے۔بے چینی اور بے انصافی، ظلم و تعدی، حکومت کا حق ادا نہ کرنا، یعنی جو اُس کے ذمہ رعایا کا حق ہے۔اور اسی طرح عوام جو ہیں وہ بھی اپنی ذمہ داریوں کو ادا نہیں کرتے اور جب عوام کو موقع ملے تو اُن کی طرف سے بھی ظلم کا اظہار ہوتا ہے۔یہ سب تقویٰ سے دُوری ہے اور اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری سے اپنے آپ کو باہر نکالنا ہے۔کہنے کو تو کہتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کامل اور مکمل تعلیم ہے اور یقینا ہے لیکن ان کی یہ بات کہ اس وجہ سے ہمیں اب کسی مجدد کی ضرورت نہیں ہے، کسی مسیح و مہدی کی ضرورت نہیں ہے، کسی نبی کی ضرورت نہیں ہے، یہ چیز میں غلط ہیں۔قطع نظر اس کے کہ خدا تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی ہے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے زمانے کی اصلاح کے لئے ایسا شخص مبعوث ہو گا۔خود زمانے کے حالات بھی پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ مسلمان تعلیم کو بھلا چکے ہیں۔مساجد تو ہیں لیکن علماء نے انہیں سیاسی اکھاڑے بنالیا ہے۔قرآنِ کریم تو ہے لیکن وہ بھی صرف خوبصورت الماریوں کی سجاوٹ اور زینت بنا ہوا ہے۔علماء اپنی مرضی کی تفسیر میں کر کے عوام کو ، عامتہ المسلمین کو غلط راستوں پر چلا رہے ہیں۔پس یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ضرورت نہیں ہے۔خدا تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے کی ضرورت ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ پیشگوئی فرمائی تھی کہ ضرورت ہوگی۔پس یہ علماء کسی طرح بھی اس کا انکار نہیں کر سکتے ، یا اگر کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں ، غلط کہتے ہیں۔عوام الناس کو اس پر غور کرنا چاہئے۔یہ ضرورت ہے اور یقیناً ہے کہ کوئی شخص خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہو کر آئے اور مسلمانوں کے اس بگاڑ کی بھی اصلاح کرے اور اسلام کا جو غلط تصور غیر مسلم دنیا میں قائم ہو چکا ہے اُس کو زائل کر کے اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا میں پھیلائے اور دنیا کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے لائے۔عوام کو ان علماء نے نبی کی بحث میں الجھا کر اپنے مقصد پورے کرنے شروع کئے ہوئے ہیں۔جب خدا تعالیٰ نے اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح موعود اور مہدی معہود کو نبی کے نام سے پکارا ہے تو پھر کسی اور کا کیا حق بنتا ہے کہ اپنی تشریحیں کر کے اُس کے اور اُس کے ماننے والوں کے خلاف ظلم و تعدی کا بازار گرم کریں۔جیسا کہ میں نے کہا، خود دنیا کے حالات اس بات کی گواہی دے رہے ہیں کہ باوجود قرآنِ کریم