خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 227 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 227

خطبات مسرور جلد 11 227 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء نے ہر فرد جماعت کا حق بھی ادا کرنا ہے اور جماعت کا مجموعی طور پر بحیثیت جماعت بھی حق ادا کرنا ہے۔کیونکہ ہر عہدیدار کو یہ سوچنا چاہئے کہ میں ایک جماعتی عہدیدار ہوں اور کسی بھی قسم کی میری کمزوری جماعت کو متاثر کر سکتی ہے یا جماعت کے نام کو بدنام کرنے والی ہو سکتی ہے۔اس لئے اُسے یہ حق بھی ادا کرنے والا ہونا چاہئے اور پھر اپنے نمونے قائم کرتے ہوئے دینی حقوق کے ساتھ ساتھ دنیاوی حقوق کی بھی مثال قائم کرنی چاہئے۔یہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ یہ میرا ذاتی معاملہ ہے، میں اس میں جو مرضی کروں۔جماعت سے اس کا کوئی تعلق نہیں، اس لئے مجھے آزادی ہے جو چاہوں میں کروں۔ہر عہد یدار کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اُس کی ذات بھی اب ہر معاملے میں جماعتی مفادات کے تابع ہے۔پس یہ سوچ ہے جو ہر عہد یدار کو پیدا کرنی چاہئے اور ایسی سوچ رکھنے والوں کو ہی حق رائے دینے والوں کو یا ووٹ دینے والوں کو منتخب کرنا چاہئے۔یا دوسرے لفظوں میں جن کا تقویٰ کا معیار بلند ہوا نہیں عہد یدار بنانے کی کوشش کرنی چاہئے۔اگر ہمارا دعویٰ اس زمانے کے امام کو مان کر تقویٰ کے معیاروں کو بلند کرنے کا ہے، اپنے ذمہ کی گئی امانتوں کا دوسروں سے بڑھ کر حق ادا کرنے کا یہ دعویٰ ہے تو ہمیں بہت فکر سے اپنی جماعتی ذمہ داریوں کو ادا کرنا ہوگا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَالَّذِينَ هُمْ لِأَمَنتِهِمْ وَعَهْدِهِمْ رعُونَ (المؤمنون: 9) اور وہ لوگ جو اپنی امانتوں اور اپنے عہدوں کا خیال رکھتے ہیں۔پس اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہر ایک کو اپنے اپنے دائرے میں سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔اپنے سپرد کی گئی امانتوں کو سرسری طور پر ادا نہیں کرنا بلکہ گہرائی میں جا کر تمام باریکیوں کو سامنے رکھ کر اپنے کام سرانجام دینے ہیں۔پس منتخب کرنے والوں کو بھی ایسے لوگوں کو منتخب کرنا چاہئے جو اپنے کاموں میں سنجیدہ ہوں اور منتخب شدہ لوگوں کو بھی اپنی تمام تر صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے ذمہ داریوں کا حق ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جو عہد کیا ہے سب سے زیادہ اُس کی پابندی عہد یداران کو کرنی چاہئے ، چاہے وہ کسی بھی سطح کے عہد یدار ہوں۔عہدے یا خدمت کرنے کی خواہش کا جذبہ تو جیسا کہ میں نے کہا بہت رکھتے ہیں حالانکہ عہدے کی خواہش تو ہونی بھی نہیں چاہئے۔یہ تو ویسے ہی اسلامی تعلیم کے خلاف ہے۔اگر خدمت کا جذبہ ہے اور اس کی خواہش ہے تو پھر جو خدمت سپرد کی جائے یا کوئی عہدہ سپر د کیا جائے تو پھر خدمت کرنے والوں کو، عہد یداروں کو یا درکھنا چاہئے کہ اپنے تمام عہد پورے کئے بغیر کام نہیں ہوسکتا۔اور عہد کس طرح پورے ہوں گے؟ اور کس معیار سے پورے ہوں گے؟ اور کیا معیار اس کا ہونا چاہئے ؟ اس بارے میں