خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 226 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 226

خطبات مسرور جلد 11 226 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء ہوگی یا قرابت داری کا لحاظ رکھا جائے گا یا ایک کارکن سے ضرورت سے زیادہ باز پرس اور دوسرے سے بلا ضرورت صرف نظر ہوگی تو انصاف قائم نہیں رہ سکتا۔اور جب انصاف قائم نہ ہو تو پھر کام میں برکت نہیں پڑتی، پھر اچھے نتائج کے بجائے بدنتائج نکلتے ہیں۔اسی طرح صرف کام کرنے والوں کا ہی معاملہ نہیں ہے بلکہ ہر فر د جماعت کے ساتھ انصاف پر مبنی تعلقات ہونے چاہئیں اور فیصلے اُس کے مطابق ہونے چاہئیں۔یہ نہیں کہ فلاں شخص فلاں کا دوست ہے یا فلاں کا عزیز ہے یا فلاں خاندان کا ہے تو اُس سے اور سلوک اور دوسرے سے اور سلوک۔اگر یہ باتیں ہوں تو یہ چیزیں پھر جماعت میں بے چینی پیدا کرتی ہیں۔اسی طرح جب خلیفہ وقت کی طرف سے رپورٹ کے لئے کہا جائے تو پھر رپورٹ بھی صحیح ہونی چاہئے کہ حکم تو تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ کا ہے۔لیکن خلیفہ وقت کو اگر غلط رپورٹ ہوگی تو خلیفہ وقت سے بھی غلط فیصلہ ہو جائے گا اور غلط فیصلہ کروا کر اُسے بھی اپنے ساتھ گنہگار بنا رہے ہوں گے اور خود تو خیر بن ہی رہے ہوں گے۔پس ہمیشہ جماعتی کاموں میں ان چیزوں کو مدنظر رکھنا چاہئے۔ہر کام ، ہر خدمت جو دی جائے ، اُس کو انتہائی سوچ بچار کر اور ایمانداری سے ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔پس عہدے کوئی بڑائی نہیں بلکہ بہت بڑی ذمہ داری ہے۔دعاؤں کے ساتھ اپنی ذمہ داری کو نبھانے کی ضرورت ہے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ سمیع ہے، وہ تمہاری دعاؤں کو سنتا ہے، خاص طور پر جب خدا تعالیٰ کے حکموں پر پورا اترنے کی دعائیں کی جائیں تو اللہ تعالیٰ کی مدد ضرور شاملِ حال ہوتی ہے۔اللہ تعالیٰ جس طرح رائے دینے والے پر ، ووٹ دینے والے پر گہری نظر رکھنے والا ہے، اسی طرح عہد یدار پر بھی اُس کی گہری نظر ہے۔اگر اپنی ذمہ داری نہیں نبھائیں گے، اگر عدل اور انصاف سے فیصلے نہیں کریں گے، اگر اپنے کاموں کو اُن کا حق ادا کرتے ہوئے نہیں بجالائیں گے تو پھر خدا تعالیٰ جو ہر چیز کو دیکھ رہا ہے، وہ فرماتا ہے پھر تم پوچھے بھی جاؤ گے۔تمہاری جواب طلبی ہوگی۔پس یہ ہر اُس شخص کے لئے بہت خوف کا مقام ہے جس کے سپرد کوئی نہ کوئی خدمت کی جاتی ہے۔لوگوں کو عہدوں کی بڑی خواہش ہوتی ہے۔لیکن اگر اُن کو پتہ ہو کہ یہ کتنی بڑی ذمہ داری ہے اور اس کا حق ادا نہ کرنے پر خدا تعالی کی ناراضگی بھی ہوسکتی ہے اور اُس کی گرفت بھی ہوسکتی ہے تو ہر عہد یدار سب سے بڑھ کر ، دوسروں سے بڑھ کر دن اور رات استغفار کرنے والا ہو۔ہر عہدیدار کو یا درکھنا چاہئے کہ ووٹ حاصل کرنے کے بعد یا عہدہ کی منظوری آجانے کے بعد وہ آزاد نہیں ہو گیا۔بلکہ ایسے بندھن میں بندھ گیا ہے جس کو نہ نبھانے کی صورت میں یا اپنی استعدادوں اور صلاحیتوں کے مطابق نہ بجالانے کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی لینے والا بھی ہوسکتا ہے۔ہر عہد یدار