خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 225
خطبات مسرور جلد 11 225 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 12 اپریل 2013ء نو جوانوں پر بھی واضح ہونا چاہئے کہ انتخابات میں رائے دی جاتی ہے۔حتمی فیصلہ خلیفہ وقت کی طرف سے ہوتا ہے۔بعض دفعہ کسی کے حق میں کثرت کے باوجود بعض وجوہات کی بنا پر دوسرے کو ( عہد یدار ) بنا دیا جاتا ہے۔یہ بھی واضح ہو کہ بعض مقامی عہدیداروں کے انتخابات کی حتمی منظوری اگر ملکی امیر دیتا ہے تو اُسے قواعد اس کی اجازت دیتے ہیں۔کثرتِ رائے سے اختلاف کا وہ حق رکھتا ہے لیکن امراء کو کثرتِ رائے کا عموماً احترام کرنا چاہئے اور یہ بات نوٹ کر لیں، خاص طور پر انگلستان اور یورپ کے ممالک اور امریکہ، کینیڈا، آسٹریلیا کے ممالک کہ مقامی انتخابات میں قواعد نمیشنل امیر کو اجازت دیتے ہیں کہ اگر وہ تبدیلی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔لیکن جن ملکوں کے میں نے نام لئے ہیں، اس دفعہ کے الیکشن کیلئے اگر کوئی تبدیلی کرنی ہو گی تو اس کے لئے بھی مجھ سے پہلے پوچھنا ہو گا۔یہاں سے منظوری لیں گے۔امراء خود تبدیلی نہیں کریں گے۔باقی پاکستان یا بھارت یا جو دیگر ممالک ہیں، وہ حسب قواعد مقامی انتخابات کے لئے منظوری کی کا رروائی کر سکتے ہیں اور ہر ملک کی جو نیشنل عاملہ ہے اور بعض اور عہدیداران جو ہیں ، اُن کی بہر حال یہیں مرکز سے منظوری لی جاتی ہے۔خلیفہ وقت سے منظوری لی جاتی ہے۔اس آیت میں تُؤَدُّوا الآمنتِ إِلَى أَهْلِهَا ( النساء: 59) کہا گیا ہے۔یہ عہد یداران کے لئے بھی ہے۔بعض عہدے یا بعض کام ایسے ہیں جو بغیر انتخاب کے نامزد کر کے سپرد کئے جاتے ہیں۔مثلاً سیکرٹری رشتہ ناطہ ہے، اس کا عہدہ ہے یا خدمت ہے یا بعض شعبوں میں بعض لوگوں کو کام تفویض کئے جاتے ہیں تو امیر جماعت یا صدر جماعت یا متعلقہ سیکرٹری اگر کسی کو ایسے کام دیتے ہیں تو صرف ذاتی پسند اور تعلق پر نہ دیا کریں بلکہ افراد جماعت کا تفصیلی جائزہ لیں اور یہ جائزہ لے کر پھر اُن میں سے جو بہترین نظر آئے اُسے کام سپرد کرنا چاہئے ورنہ یہ خویش پروری ہے اور اسلام میں ناپسند ہے۔لیکن اگر کوئی اپنے کسی دوست یا عزیز کو کوئی کام سپر د کرتا ہے اور اُس کی بظاہر اس کام کے لئے لیاقت بھی ہے تو پھر بعض لوگ جن کو اعتراض کرنے کی عادت ہے وہ بلا وجہ یہ اعتراض کر دیتے ہیں کہ اس نے اپنے قریبی کو فلاں عہدہ دے دیا۔اُن کو یہ اعتراض نہیں کرنا چاہئے۔کسی عہدیدار کا، کسی امیر کا عزیز ہونا یا قریبی ہونا کوئی گناہ نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے اُس شخص کو خدمت سے محروم کر دیا جائے۔یہ بات میں نے اس لئے واضح کر دی کہ بعض لوگوں کی طرف سے اس طرح کے اعتراض آ جاتے ہیں۔پھر اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں عہدیداروں کو فرمایا ہے کہ آن تَحْكُمُوا بِالْعَدْلِ کہ انصاف کے ساتھ اپنے عہدوں اور تفویض کردہ کاموں کو سرانجام دو۔اگر عدل نہیں ہوگا، انصاف نہیں ہوگا، خویش پروری