خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 220 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 220

خطبات مسرور جلد 11 220 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 اپریل 2013ء ضرورت ہی نہیں ہے کہ کوئی گول مول بات کی جائے۔ہم اُن علماء کی طرح نہیں جو کہتے ہیں کہ حکمت کے تقاضے پورے کرنے کے لئے اگر جھوٹ بھی بولنا ہو تو بول دو اور یہ اُن کی تفسیروں کی کتابوں میں لکھا ہوا ہے۔وہ حکمت کیسی ہے جس میں جھوٹ ہے؟ جہاں جھوٹ آیا وہاں انصاف ، عدل اور امن ختم ہوا۔اور جہاں یہ چیزیں ختم ہوئیں وہاں فتنہ و فساد پیدا ہوا اور یہی چیز آجکل ہم پاکستان میں اور دوسرے اسلامی ملکوں میں دیکھ رہے ہیں اور جب فتنہ پیدا ہو تو پھر وہاں اسلام نہیں رہتا۔پس اسلام کی حقیقی تعلیم اگر کوئی پھیلا سکتا ہے، اگر کوئی بتا سکتا ہے تو وہ احمدی ہے جس کی ہر بات صداقت ، عدل اور علم پر منحصر ہے۔پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے ہر احمدی کی جو ہم نے ادا کرنی ہے۔اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اسی طرح حکمت کے تقاضے پورے کرو۔یعنی اپنے علم کو بڑھاؤ ، اپنے صبر کے معیار کو بڑھاؤ ، اپنے عدل کے معیار کو بڑھاؤ، اپنی روزمرہ زندگی میں جس چیز کا اظہار ہوتا ہو، وہ کرو۔اپنے اندر مزاج شناسی پیدا کرو کیونکہ مزاج شناسی کے بغیر بھی تبلیغ نہیں ہو سکتی۔مزاج شناسی بھی تبلیغ کے لئے ایک اہم گر ہے۔تو پھر تمہارا وعظ جو ہے وہ اعلیٰ ہو سکتا ہے، تمہاری جو تبلیغ ہے وہ پر حکمت ہوسکتی ہے۔تب تم موعظہ حسنہ پر عمل کرنے والے ہو سکتے ہو۔موعظہ حسنہ کا مطلب یہ ہے کہ ایسی بات جو دل کو نرم کرے۔پس حکمت کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے جو بات ہو وہ دلوں کو نرم کرتی ہے۔یہاں مختلف قومیں آباد ہیں ان کے لئے مختلف طریق سوچنے ہوں گے کہ کس طرح ان کو احسن رنگ میں تبلیغ کی جائے۔اس کی طرف بھی اللہ تعالیٰ نے رہنمائی فرما دی ہے کہ جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ یعنی تبلیغ ایسی احسن دلیل اور حکمت کے ساتھ ہو، تمہاری نصیحت ایسی دل کو لگنے والی ہو کہ دل نرم ہونے شروع ہو جائیں۔تبلیغ کرنا ہر احمدی کا کام ہے۔باقی اسے پھل لگانا خدا تعالیٰ کا کام ہے۔ہدایت فرمانا خدا تعالیٰ کا کام ہے لیکن اس کام کے لئے جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا اپنی حالتوں کو بدلنے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔تبھی بات اثر کرتی ہے۔تبھی دلیلیں کارگر ہوتی ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک موقع پر نصیحت کرنے کے طریق کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے فرمایا کہ: " جسے نصیحت کرنی ہوا سے زبان سے کرو۔ایک ہی بات ہوتی ہے وہ ایک پیرا یہ میں ادا کرنے سے ایک شخص کو دشمن بنا سکتی ہے اور دوسرے پیرا یہ میں دوست بنادیتی ہے۔پس جَادِلُهُمْ بِالَّتِي هِيَ الحسن (النحل: 126) کے موافق اپنا عمل درآمد رکھو۔اسی طرز کلام ہی کا نام خدا نے حکمت رکھا ہے۔“ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 104 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ )