خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 219 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 219

خطبات مسرور جلد 11 219 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 اپریل 2013ء کس طرح تبلیغ کریں؟ بعض قریبیوں کے لئے اُن کے دل میں بڑا درد ہوتا ہے۔ان کی ایک بے چینی کی کیفیت ہوتی ہے۔خاص طور پر جب وہ اپنے عزیزوں کو احمدیت کے بارے میں بتاتے ہیں تو بجائے باتیں سننے کے آگ بگولہ ہو جاتے ہیں اور سختی سے کلام کرتے ہیں تو اُس وقت ہر احمدی کا کام ہے کہ نرمی اور صبر کا مظاہرہ کرے۔یہ حکمت ہے اور یہ بہت ضروری چیز ہے۔بہت سوں کے دل جو ہیں وہ حکمت سے نرم ہو جاتے ہیں۔صبر اور نرمی سے نرم ہو جاتے ہیں۔کئی لوگ اپنے واقعات لکھتے ہیں کہ ہمارے صبر اور حوصلہ ایسا تھا کہ لگتا تھا کہ دامن چھوٹ رہا ہے لیکن ہم صبر کرتے رہے اور ہمارا صبر رنگ لایا اور ہمارا فلاں عزیز اب بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گیا۔پھر جو حکمت کا قرآن کریم میں لفظ آیا ، لغت میں اس کے یہ بھی معنی ہیں کہ جو چیز جہالت سے رو کے۔یعنی تبلیغ کرنے والے کو ایسی بات کہنی چاہئے جو دوسرے کو جاہلانہ باتیں کرنے سے روکے۔اُس کے مزاج کے مطابق باتیں ہوں۔ایسی بات نہ ہو کہ ایسی باتیں تمہارے منہ سے نکل جائیں جو اُس کو مزید جہالت پر ابھارنے والی ہوں۔بیشک مولویوں کا طبقہ یا بعض ایسے لوگوں کا طبقہ جن کے دل پتھر ہو چکے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر نے اُن کے لئے جہالت کی موت ہی مقدر کر دی ہے، اگر حکمت سے ان میں سے ہر ایک کی طبیعت اور علم کی حالت کو سمجھتے ہوئے بات کی جائے تو وہاں دل نرم ہونے شروع ہو جاتے ہیں یا کم از کم اگر انسان مانتا نہیں تو خاموش ضرور ہو جاتا ہے۔بلکہ خدا تعالیٰ کو نہ ماننے والے اور مذہب کے خلاف جو لوگ ہیں اُن کے بھی دل نرم ہو جاتے ہیں اور وہ غلط اور جاہلانہ اعتراضات کرنے سے باز آ جاتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا ریسپشن کی مثال دیتا ہوں، یہاں آنے والوں میں بہت سارے لا مذہب لوگ بھی تھے۔اُن میں سے ایک جوڑے نے جو ڈاکٹر تھے جب قرآن اور حدیث کے حوالے سے میری باتیں سنیں ، تو کہنے لگے کہ یہ مذہب کی باتیں دل کو ایسی لگ رہی ہیں کہ دل چاہتا ہے سنتے چلے جائیں۔وہ مجھے ملے بھی تھے۔پس اسلام کی تعلیم تو ایسی پر حکمت تعلیم ہے کہ اگر ماحول کے مطابق دنیا کے سامنے پیش کی جائے تو دل پر اثر کرتی ہے۔میں دوبارہ کہتا ہوں کہ اب یہ میدان جو صاف ہو رہے ہیں اور یہ تعارف جو بڑھ رہے ہیں انہیں آپ نے سنبھالنا ہوگا۔اور انہیں سنبھالنا آپ میں سے ہر ایک کا کام ہے۔پھر حکمت یہ بھی تقاضا کرتی ہے کہ کبھی کوئی غلط بات نہ ہو بلکہ سچی اور صاف بات ہو اور اسلام نے تو ایسی خوبصورت اور سچی تعلیم دی ہے، اسلام ایسا خوبصورت اور سچا مذہب ہے کہ اس کے لئے کوئی