خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 217
خطبات مسرور جلد 11 217 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 اپریل 2013ء گالیاں دیں اور وہ خاموشی سے سنتا رہا۔اُس کے بعد رئیس نے اُسے کہا کہ تم نے اس شخص کو کیوں گالیاں دیں؟ تو وہ امیر زادہ کہنے لگا کہ اس شخص نے پہلے مجھے برا بھلا کہا تھا اور مجھ سےصبر نہیں ہو سکا اس لئے میں نے اس کو گالیاں دیں۔تو اُس رئیس نے اُسے کہا کہ میں نے تمہیں گالیاں دیں اور تم خاموشی سے سنتے رہے۔اس کا مطلب ہے یہ بات نہیں کہ تم میں صبر نہیں تھا۔تم میں صبر تھا تو تم میری باتیں سنتے رہے۔صرف اس لئے تم نے اس کو گالیاں دیں اور ضرورت سے زیادہ برا بھلا کہہ دیا کہ وہ تمہارے سے کم تر تھا یا تم اُس کو کمتر سمجھتے تھے اور اگر تم صبر دکھاتے ، جو دکھا سکتے تھے اور یہی تم نے میرے سامنے دکھایا جب میں نے تمہارے صبر کا (ماخوذ از حقائق الفرقان جلد اول صفحہ 454 سورۃ آل عمران زیر آیت نمبر 18) ٹیسٹ لیا۔پس صبر دکھانے کے یہ ہمارے معیار ہیں کہ جس طرح ہم اونچے کے سامنے صبر کرتے ہیں، اپنی حیثیت سے بڑے کے سامنے یا طاقتور کے سامنے ہم صبر کرتے ہیں، کمزور یا اپنے برابر والے سے بھی اتنا ہی صبر دکھا ئیں تو تبھی ہم ہر قسم کے فتنے اور فساد ختم کر سکتے ہیں۔دنیا کو ہم نصیحت کرتے ہیں، اسلام کی خوبصورت تعلیم بتاتے ہیں لیکن وقت آنے پر ہم میں سے وہ اکثریت ہے جو صبر کا دامن چھوڑ دیتی ہے۔اگر ہم یہ معیار حاصل کر لیں تو ہماری تبلیغ کے میدان بھی مزید کھلتے چلے جائیں گے۔عام افراد جماعت یہ نہ سمجھیں کہ یہ ساری واقفین زندگی اور عہدیداران کی ذمہ داریاں ہیں ، آپس میں محبت و پیار کو بڑھانا صلح اور صفائی کو قائم رکھنا اللہ تعالی کی رسی کو مضبوطی سے پکڑے رکھنا، اللہ تعالیٰ اور اُس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو سننا اور اُن پر عمل کرنا، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تعلیم کے مطابق اپنے تقویٰ کے معیار بڑھانا، خلیفہ وقت کی باتوں پر لبیک کہنا یہ ہر احمدی کی ذمہ داری ہے اور یہی چیز جماعت کی اکائی کو بھی قائم رکھ سکتی ہے۔عہدیداران کی عزت و احترام کرنا اور جماعتی معاملات میں اُن کی اطاعت کرنا یہ ہر فر د جماعت پر فرض ہے۔آپس کے تعلقات میں گھروں میں بھی اور باہر بھی اپنے اعلیٰ اخلاق کے نمونے قائم کرنا ، ہر احمدی کی ذمہ داری ہے۔تبھی آگ کے گڑھے میں گرنے سے بچائے جائیں گے اور پھر صرف خدا تعالیٰ نے یہی نہیں کہا کہ تبلیغ صرف مبلغین کا کام ہے یا چند اُن لوگوں کا کام ہے جو اپنے آپ کو دعوت الی اللہ کے لئے پیش کر دیتے ہیں۔بیشک اللہ تعالیٰ نے ایک گروہ کا ذکر کیا ہے لیکن دعوت الی اللہ کے بارے میں عام حکم ہے۔اگر ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہر حکم کے پیروی کرنے اور اسوہ پر چلنے کا اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے تو تبلیغ کے کام میں بھی پیروی کرنی ہوگی۔میں نے جو تیسری آیت سورۃ نحل کی پڑھی، اُس میں اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے اور یہ ذمہ داری