خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 214 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 214

خطبات مسرور جلد 11 214 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 5 اپریل 2013ء آنے میں دیر ہوگئی تو اُن کے سٹاف نے یہ کہہ دیا کہ وہ نہیں آسکتے۔لیکن وہ پروگرام سے ایک گھنٹہ پہلے یہاں سٹیشن پر پہنچے اور اپنے ڈرائیور کو کہا کہ سیدھے مسجد چلو۔اپنے کسی سرکاری کام سے گئے ہوئے تھے۔انہوں نے مجھے بتایا کہ آج وزیر خارجہ کے ساتھ کوئی میٹنگ تھی، میں دو پہر وہاں گزار کے آیا ہوں۔لیکن پھر بھی انہوں نے مسجد کے پروگرام کو اہمیت دی اور سید ھے یہاں تشریف لائے۔پہلے ان کا خیال تھا کہ یہاں آدھا گھنٹہ بیٹھوں گا اور پھر چلا جاؤں گا۔لیکن پھر کافی دیر بیٹھے، بڑی دلچسپی سے باتیں سنیں ، باتیں کیں اور کہنے لگے کہ اسلام کی تعلیم بڑی خوبصورت ہے جو تم نے بیان کی ہے۔اسی طرح کئی اور لوگ بھی تھے جو یہاں آئے ہوئے تھے۔سیاست دان تھے، وکیل تھے ، ڈاکٹر تھے ہمبر آف پارلیمنٹ تھے تو سب نے بڑا اچھا تاثر لیا۔جیسا کہ میں نے کہا کہ یہ پہلا فنکشن تھا جو سپین کی جماعت نے اس پیمانے پر آرگنائز کیا اور 108 کے قریب یہ سپینش افراد تھے جو یہاں آئے ہوئے تھے۔ہمسائے جو پہلے یہاں مسجد بنانے کے مخالف تھے ، اُن میں سے بھی کئی آئے ہوئے تھے۔اُن میں بعض کو اگر کوئی شبہات تھے جن کا اُس وقت انہوں نے اظہار بھی کیا تو میری تقریر کے بعد وہ دُور ہو گئے۔میں نے ہمسایوں کے حقوق اور اسلام میں اس کی اہمیت سے بھی بات شروع کی تھی۔تو بہر حال اس مسجد کے بننے کے بعد دنیا کی اب اس طرف نظر ہے۔اب یہ بن گئی ہے اور افتتاح کے بعد اخباروں میں آنے کے بعد مزید نظر ہوگی۔ہم نے اپنا کردارادا کرنا ہے۔پس اس ذمہ داری کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ان تلاوت کردہ آیات میں سے آل عمران کی پہلی آیت میں تو اتفاق و اتحاد کی طرف زور دیا ہے تا کہ ہدایت پر قائم رہو اور گمراہی سے بچو اور اللہ تعالیٰ کے انعامات سے حصہ لیتے چلے جاؤ۔تو دوسری آیت میں فرمایا کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو يَدُعُونَ إِلَى الخَیر کرنے والی ہو ، جو بھلائی کی طرف بلانے والی ہو۔پس یہ ایک جماعت ایسی ہو جو بھلائی کی طرف بلائے اور نیکیوں کی تلقین کرے اور برائیوں سے رو کے اور یہ جماعت سب سے پہلے مبلغین اور مربیان کی جماعت ہے۔وہ پہلے مخاطب ہیں۔کیونکہ آپ مربیان کو خلیفہ وقت نے تربیت کے لئے اور تبلیغ کے لئے اپنا نمائندہ بنا کر یہاں بھی اور دنیا میں بھی بھیجا ہے۔آپ وہ واعظ ہیں جو نصیحت کرتے ہیں، جو یہ بات دنیا کو بتارہے ہیں کہ اگر نجات چاہتے ہو تو حبل اللہ کو پکڑ لو۔اگر دنیا و آخرت سنوارنا چاہتے ہو تو محبت، پیار اور بھائی چارے کو فروغ دو۔اگر خود مربیان اور مبلغین اعلیٰ معیار قائم نہیں کریں گے تو دنیا کو کس طرح نصیحت کریں گے۔مربیان کا کام جماعت کی تربیت بھی ہے اور تبلیغ بھی۔