خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 203
خطبات مسرور جلد 11 203 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء کا یہ بھی ایک مطلب ہے۔پین میں اگر چہ پہلے مسلمان جو داخل ہوئے وہ مدد کے لئے آئے ، جہاد بھی کیا اور دادرسی کے لئے آئے تھے اور پھر وہ آگے پھیلتے چلے گئے۔انہوں نے بیشک تلوار کا جہاد کیا لیکن آج کی قربانیاں تبلیغ کے جہاد کے ذریعہ سے ہیں۔اشاعت لٹریچر کے لئے مالی قربانیاں کر کے ہیں۔مساجد کی تعمیر کے لئے مالی قربانیاں کر کے ہیں۔قربانیوں کی نوعیت حالات کے مطابق بدل جاتی ہے۔حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس دعا کو کہ ہمیں قربانیوں کے طریق سکھا ، یعنی بدلتے ہوئے حالات کے مطابق اپنی رضا کے حصول کے لئے قربانیوں اور عبادتوں کے طریق ہمیں سکھا۔اس دعا کو قرآنِ کریم میں محفوظ کر کے ہمیں یہ اصولی ہدایت اللہ تعالیٰ نے فرما دی کہ قربانیاں حالات کے مطابق دینی ہیں۔نیکی اس طرح اور اس قسم کی کرنی ہے جو خدا تعالیٰ کی رضا کو سمیٹنے والی ہو۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کو سب سے بڑی نیکی یہ بیان فرمائی کہ تہجد پڑھا کرو۔(ماخوذاز صحیح البخاری کتاب التهجد باب فضل قیام اللیل حدیث نمبر 1122) کسی کو پھر فرمایا کہ تمہارے لئے سب سے بڑی نیکی یہ ہے کہ جہاد کیا کرو۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب من قال ان الايمان هو العمل حدیث نمبر (26) پس جس میں جس نیکی کی کمی ہو ، وہی اُس کے لئے ضروری ہے اور وہی اس کے لئے بڑی ہے۔وہی اُس کے لئے مناسب حال عبادت کا طریق ہے اور وہی اُس کے لئے مناسب حال قربانی ہے۔پس اس دعا میں اپنے لئے اور اپنی نسلوں کے لئے ہر قسم کی کمزوریوں کو دور کرنے اور خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لئے کوشش پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے۔ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ انسان اپنی کوشش سے نہ ہی عبادتوں کے معیار حاصل کر سکتا ہے، نہ قربانیوں کے معیار حاصل کر سکتا ہے۔اس لئے دعا عرض ہے کہ تُبْ عَلَيْنَا۔ہم پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھک جا۔ہماری نیکیوں کو قبول کر لے اور پھر نیکی سے نیکی پھوٹتی رہے۔ایک نیکی سے اگلی نیکی کی جاگ چلتی چلی جائے۔قربانی سے قربانی پھوٹتی رہے۔تیری عبادت، تیری رضا چاہتے ہوئے حمد کرنے والے ہوں ، نہ کہ دکھاوے کے لئے۔اور یہ عبادت پھر ہماری سوچوں کا محور بن جائے۔پس ہم خوش قسمت ہوں گے اگر ہم اپنی عبادتوں اور قربانیوں کو اس نہج پر کرنے والے بن جائیں۔ہمیشہ اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں اور زیادتیوں سے اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آنے کی دعائیں کرنے والے ہوں۔اپنی نسلوں کے دلوں میں خدا تعالیٰ اور اُس کی عبادت کی محبت پیدا کرنے والے ہوں۔اور یہ اُسی