خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 201 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 201

خطبات مسرور جلد 11 201 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء ہوئے ہماری نااہلیوں سے صرف نظر کرتے ہوئے ہمیں مسجد کی تعمیر کے مقاصد کو پورا کرنے والا بنا۔مسجد کی خوبصورتی، مسجد کی وسعت ، یہ ہمارے اُس وقت کام آ سکتی ہیں جب ہم اُس کا حق ادا کرنے والے بن جائیں۔اور حق ادا کرنے کے لئے جہاں مسجد کو آباد کر کے اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے ہم ہوں، وہاں اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق ادا کرنے والے بھی ہوں۔پیار، محبت اور بھائی چارے کو فروغ دینے والے ہم ہوں تا کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کے عملی نمونوں کا ہم سے اظہار ہورہا ہو۔تا کہ لوگوں کی توجہ ہماری طرف ہو، تاکہ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو دنیا سمجھنے کی کوشش کرے۔اے اللہ ! تو سنے والا ہے۔ہماری یہ دعا بھی سن لے کہ اس مسجد کی ظاہری خوبصورتی سے زیادہ اس مسجد کی آبادی کی روح کو خو بصورت کر کے ہمیں دکھا دے۔اصل میں تو اس مسجد کی تعمیر کی روح ہے جو اگر حقیقت میں ہم میں پیدا ہو جائے تو اُس مقصد کو ہم حاصل کرنے والے بن جائیں گے جس کے لئے مسجد تعمیر کی گئی تھی۔جیسا کہ میں نے بتایا جب یہاں صدیوں مسلمانوں کی حکومت رہی تو بڑی بڑی خوبصورت مسجد میں مسلمانوں نے بنائیں۔مثلاً قرطبہ کی مسجد ہے، دیکھ کر انسان حیران رہ جاتا ہے اور دوسری جگہوں پر مسجدیں ہیں۔جہاں جہاں مسلمانوں کی آبادیاں تھیں، بڑی بڑی مسجد میں تھیں ، اشبیلیا میں غرناطہ وغیرہ میں۔لیکن جب اسلام کی حقیقی تعلیم کی روح اُن مساجد میں آنے والوں میں مفقود ہوگئی تو وہی جگہیں جہاں خدائے واحد کا نام لیا جاتا تھا، یا تو مسمار کر دی گئیں یا شرک کی آماجگاہ بن گئیں۔قرطبہ کی مسجد دیکھیں، حیرت ہوتی ہے کہ ایسی خوبصورت اور مضبوط عمارت ہے۔صدیاں گزرنے کے بعد بھی اُس کی خوبصورتی اور مضبوطی میں ذرا بھی فرق نہیں آیا۔لیکن بدقسمتی سے آج وہ گرجے میں تبدیل ہو چکی ہے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اصل چیز عمارت نہیں، اصل چیز وہ روح ہے جو اس عمارت میں آنے والوں اور رہنے والوں کی ہوتی ہے۔پس جب مسلمانوں میں وہ روح ختم ہوگئی تو مسجد میں غیروں کے قبضے میں چلی گئیں۔پس اگر اس مسجد کی عظمت کو ہم نے قائم رکھنا ہے اور یقیناً قائم رکھنا ہے انشاء اللہ، تو پھر اس کی روح کو قائم رکھنے کی کوشش کریں اور یہ کوشش ہمیں ایک محنت سے کرنی ہوگی۔اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کرنی ہوگی کہ اے اللہ ! اس مسجد کو روح قائم کرنے والے ہمیشہ عطا فرما تارہ تا کہ قیامت تک یہ توحید کا مرکز رہے۔توحید کے نعرے یہاں سے بلند ہوں۔خدا کی نظر میں ہماری قربانی قبول ہو تو پھر ہی یہ مقصد حقیقت میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔پھر دوسری آیت میں ہم دیکھتے ہیں کہ ان بزرگ انبیاء نے اپنی دعاؤں کو خدا کے گھر کی تعمیر کے