خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 196 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 196

خطبات مسرور جلد 11 196 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 29 مارچ 2013ء کے تعارف کا کام کیا ہے اور لیف لیٹنگ کے ذریعہ سے اسلام اور جماعت کا تعارف بہت وسیع تعداد میں لوگوں تک پہنچایا ہے۔پید رو آباد کی مسجد بیشک غیر لوگ دیکھنے آتے ہیں۔بعض رپورٹوں میں ذکر ہوتا ہے کہ بعض وفود بھی آتے ہیں، لیکن اگر ایک جذبہ اور شوق سے کام ہوتا تو مسجد کی وجہ سے کہیں زیادہ اُس علاقے میں حقیقی اسلام کا تعارف ہو سکتا تھا۔اگر دوسرے مسلمان فرقے جن کا باقاعدہ نظام بھی نہیں ہے پین کے پرانے مسلمان خاندانوں کو جو عیسائیت میں زبردستی دھکیل دیئے گئے تھے، ان کی نسلوں میں سے تقریباً بیس ہزار کی تعداد میں دوبارہ اسلام میں لا سکتے ہیں تو ہماری تبلیغ سے جو حقیقی اسلام ہے، کیوں بڑی تعداد میں اسلام کی آغوش میں یہ نہیں آ سکتے۔ہم نے اسلام کے دوبارہ پین میں اجراء کا راستہ تو کھول دیا لیکن اُس راستے کو ایک عزم اور ایک جذبے کے ساتھ استعمال نہیں کیا۔اور دوسروں نے اُس سے فائدہ اُٹھالیا۔پس اب بھی وقت ہے۔سپین میں رہنے والے احمدی اور عہد یداران، ہر سطح کے عہدیداران، ہر تنظیم کے عہدیداران اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور خود اپنے ٹارگٹ مقرر کر کے پھر اس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں۔جو خوبصورت اور حقیقی اسلام ہم پیش کرتے ہیں وہ تو آج دنیا کی توجہ کا باعث ہے۔ہم نے یہ پرانے قبیلے جن کو ز بر دستی اسلام سے عیسائی بنایا گیا تھا انہیں بتانا ہے کہ اپنے باپ دادا پر ظلم کا بدلہ لینے کا وقت اب ہے۔لیکن یہ بدلہ زبر دستی اور ظلم سے نہیں لینا۔اسلام کی تعلیم تو لا إكراه في الدِّينِ کی تعلیم ہے۔اس میں کوئی جبر نہیں ہے، کوئی زبردستی نہیں ہے۔یہ جبر جو تم لوگوں سے ہوا، یہ تو جن لوگوں نے کیا شاید اُن کی تعلیم ہو، اسلام کی تعلیم نہیں ہے۔نہ ہی اسلام یہ کہتا ہے کہ کسی قوم سے ظلم کے بدلے لو۔اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ کسی قوم کی دشمنی تمہیں انصاف کرنے سے نہ روکے۔بلکہ فرما لاعْدِلُوا هُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَى وَاتَّقُوا الله (المائدة : 9) - مطلب تم انصاف کرو، وہ تقویٰ کے زیادہ قریب ہے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو۔تقویٰ ہی تمہیں خدا تعالیٰ کا قرب دلائے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ تقویٰ اختیار کرنے والوں سے محبت رکھتا ہے۔اور یہاں تو دشمنی کا سوال نہیں۔یہاں تو ہم قوم ہیں اس لئے ہم قوموں تک یہ پیغام محبت اور پیار کا پہنچانا ہے۔پس ہم نے ان کو بتانا ہے کہ پہلے خود اسلام کی خوبصورت تعلیم اختیار کرو اور پھر بدلے اس طرح لو کہ اس خوبصورت تعلیم سے یہاں کے ہر شخص کا دل جیتو۔اور جن دلوں سے زبر دستی یا لالچ یا خوف سے لا إلهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کی محبت نکال دی گئی تھی اور زبردستی خدا تعالیٰ کا شریک بنے کی تعلیم دی گئی تھی ، اُن کے دلوں میں خدائے واحد اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پیدا کرو۔اس خدا کی محبت جس کی رحمت ہر چیز پر حاوی ہے اور اُس رسول کی محبت جو رحمت للعالمین تھا۔