خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 192
خطبات مسرور جلد 11 192 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء ڈاکٹر بنانے کی خواہش تھی لیکن وہ کہتی ہیں جب ہم حضرت خلیفۃ المسیح الرابع کو ملنے گئے، تو انہوں نے کہا کہ لڑکیاں ڈاکٹر بن جائیں تو پھر بڑا مسئلہ ہوتا ہے ، گھریلو کاموں میں مشکل پڑتی ہے۔بس اتنی بات کی تھی تو انہوں نے ارادہ ترک کر دیا۔پھر بعد میں خیر اللہ تعالیٰ نے اُس لڑکی پر اس طرح فضل فرمایا کہ کینیڈا جا کے اُس کو پی ایچ ڈی کر کے ڈاکٹر بنے کی اللہ تعالیٰ نے توفیق دی۔اب بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں۔یہاں بھی بچوں کو جو الاؤنس ملتا ہے حکومت کی طرف سے،اُس پر میاں بیوی کے جھگڑے ہو رہے ہوتے ہیں۔وہ کہتا ہے میں نے لینا ہے۔وہ کہتی ہے میں نے لینا ہے۔لیکن ان کا ایک بچہ لکھتا ہے کہ میں نے اچھے نمبر لئے تو مجھے سکالرشپ ملا۔تو مجھے میرے والد نے کہا کہ یہ سکالرشپ تمہیں ملا ہے، یہ تمہاری محنت کی وجہ سے ملا ہے۔لیکن تمہاری جو پڑھائی کا خرچہ اور رہن سہن کا خرچہ ہے وہ میں پورا دوں گا۔یہ تمہاری اپنی فیس ہے۔اس پر میرا یا تمہارے گھر کا کسی کا کوئی حق نہیں۔لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ بچے مطالبے شروع کر دیں کہ ہمارا حق ہو گیا۔کہنے کا مطلب یہ ہے کہ رقم جس اصل مقصد کے لئے ہو اس پر استعمال ہونی چاہئے۔نوری صاحب نے لکھا ہے کہ 1985 ء سے ان کو دل کی تکلیف تھی اور ایسے حالات آئے کہ لگتا تھا کہ اب زندگی ختم ہوئی ، اب ہوئی۔لیکن اللہ تعالیٰ نے مختلف موقعوں پر ان کو موت کے منہ سے اس طرح نکالا کہ کہتے ہیں مختلف کا نفرنسز میں سیمینارز میں ان کا کیس میں بیان کرتا رہا ہوں اور یہ نشان بتاتا رہا ہوں۔تو ڈاکٹر ہمیشہ یہ کہتے تھے کہ تمہارے مریض کے ساتھ یہ معجزہ ہوتا ہے۔جب بنگلہ دیش گئے ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔اُس وقت بھی مجھے ان کی بڑی فکر تھی کہ خیریت سے واپس آ جائیں کیونکہ میں نے ان کو باوجود اس کے کہ یہ بیمار تھے بھیجا تھا۔بہر حال اللہ تعالیٰ انہیں نہ صرف خیریت سے لایا بلکہ کئی سال ان کو زندگی بھی عطا فرمائی۔اور نہ صرف زندگی بلکہ بڑی فعال زندگی انہوں نے گزاری۔ان کے ساتھ کام کرنے والے ہمارے مربی سلسلہ ھبۃ الرحمن صاحب لکھتے ہیں کہ : یوم مسیح موعود کے موقع پر 20 مارچ کو جامعہ احمدیہ میں ان کی تقریر تھی تو پرنسپل صاحب جب ملنے آئے۔پرنسپل صاحب نے بھی یہ لکھا تھا کہ چو ہدری صاحب نے اشاروں سے کہا کہ میں نے تقریر تو تیار کی۔کل میں صبح سات بجے سے بارہ بجے تک بیٹھا تقریر تیار کر تار ہالیکن اب میں ہسپتال میں ہوں تقریر کر نہیں سکوں گا۔تو بہر حال ہر چیز کی ان کو بڑی فکر رہتی تھی اور پہلے کام کیا کرتے تھے۔میں نے بھی ان کے ساتھ دفتر وکالت مال میں تقریباً آٹھ سال کام کیا ہے۔بہت کچھ ان سے سیکھا۔ان کی ڈرافٹنگ وغیرہ بھی بڑی اچھی