خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 191 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 191

خطبات مسرور جلد 11 191 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء تو میرے ذہن میں یہ خیال ہے کہ دریا تو بھر پور بہہ رہا ہے جیسے دریائے سندھ طغیانی کے وقت بہا کرتا ہے، اگر چہ کناروں سے چھلکا نہیں لیکن لبالب ہے اور بہت ہی بھر پور اور قوت کے ساتھ بہہ رہا ہے۔تو میں یہ سمجھتا ہوں کہ پتہ نہیں ہم یہ کر بھی سکیں گے کہ نہیں ؟ تو مبارک مصلح الدین کہتے ہیں کہ نہیں ہم کر سکتے ہیں۔اور میں کہتا ہوں کہ ٹھیک ہے پھر چلتے ہیں۔لیکن مجھے حیرت ہوتی ہے کہ اگر چہ میں کوئی ایسا تیراک نہیں مگر اس وقت تیرا کی کی غیر معمولی طاقت پیدا ہوتی ہے اور چند ہاتھوں میں بڑے بڑے فاصلے طے ہونے لگتے ہیں۔یہاں تک کہ جب میں مڑ کے دیکھتا ہوں تو وہ پچھلا کنارہ بہت دوررہ جاتا ہے اور پھر دو چار ہاتھ لگانے سے ہی وہ باقی دریا بھی عبور ہو جاتا ہے۔اور دوسری طرف ہم کنارے لگتے ہیں اور تعجب کی بات یہ ہے کہ اگر چہ مبارک مصلح الدین مجھے رویا میں اپنے آگے دکھائی دیتے ہیں مگر جب کنارے لگتا ہوں تو پہلے میں لگتا ہوں پھر وہ لگتے ہیں۔اور اس طرح ہم دوسری طرف پہنچ جاتے ہیں اور پھر یہ جائزہ لے رہے ہیں کہ کس طرح یہاں سے باہر نکل کر دوسری طرف کنارے سے باہر کی عام دنیا میں اُبھریں“۔تو پھر آپ فرماتے ہیں۔یہ رویا یہاں ختم ہوگئی اور چونکہ یہ ایک ایسی رؤیا تھی جو عام طور پر دستور کے مطابق انسان کے ذہن میں آتی نہیں، اس لئے رویا ختم ہونے کے بعد میرے ذہن پر یہ بڑا بھاری اثر تھا کہ یہ ایک واضح پیغام ہے جس میں اللہ تعالیٰ کسی نئی منزل فتح کرنے کی خوشخبری دے رہا ہے اور اگر چہ ایک حصہ اس کا ابھی تک مجھ پر واضح نہیں ہوا کہ وہ ساتھی جو ہیں ان کو ہم کیوں پیچھے چھوڑ گئے ہیں اور ہم دو کیوں آگے نکل جاتے ہیں لیکن بہر حال ذہن پر یہ تاثر ضرور ہے کہ اس میں کوئی اندار نہیں تھا بلکہ خوشخبری تھی کہ دریا کی موجوں نے اگر چہ بس کو روک دیا ہے لیکن ہمارے سفر کی راہ میں وہ حائل نہیں ہوسکیں“۔(خطبہ جمعہ 12 جنوری 1990 - بحوالہ خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 28-29 تو بہر حال یہ بابرکت رؤیا بھی تھی اس میں یہ بھی ساتھ تھے۔انہوں نے ان کو دیکھا، ان کے نام کے لحاظ سے بھی مبارک خواب ہے۔جماعت کی ترقیات بھی اس میں ہیں۔خود بھی کافی دعا گو، تہجد گزار، نیک تھے۔غریبوں کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے تھے۔بلکہ ان کے دفتر کے ایک آدمی نے لکھا کہ میرے سے غریبوں کو ہر سال رمضان میں کچھ راشن وغیرہ جنس وغیرہ دلوایا کرتے تھے اور کسی اور کو پتا نہیں ہوتا تھا۔ویسے دفتری معاملات میں اصولی آدمی تھے لیکن طبیعت میں انکساری بھی تھی ، عاجزی بھی تھی غریب پروری بھی تھی۔ان کے بچے اب اللہ کے فضل سے اچھے صاحب حیثیت ہیں، کمانے والے ہیں۔اُن کی جو خدمت خلق کی نیکیاں ہیں انہیں جاری رکھیں۔ان کی اپنی ایک بیٹی کو