خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 183
خطبات مسرور جلد 11 183 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء فرمایا: ” غرض جیسا کہ کفارہ کی بے قیدی نے یورپ کی قوموں کو شراب خواری اور ہر ایک فسق و فجور پر دلیر کیا۔ایسا ہی اُن کا نظارہ دوسری قوموں پر اثر انداز ہوا۔اس میں کیا شک ہے کہ فسق و فجور بھی ایک بیماری متعدی ہے۔ایک شریف عورت کنجریوں کی دن رات صحبت میں رہ کر اگر صریح بدکاری تک نہیں پہنچے گی تو کسی قدر گندے حالات کے مشاہدہ سے دل اس کا ضرور خراب ہوگا۔کیونکہ صحبت اثر ڈالتی ہے، حالات اثر ڈالتے ہیں، ماحول اثر ڈالتا ہے۔پھر فرمایا: ”خدا تعالیٰ کی غیرت اور رحمت نے چاہا کہ صلیبی عقیدے کے زہرناک اثر سے لوگوں کو بچاوے اور جس دجالیت سے انسان کو خدا بنایا گیا ہے، اُس دجالیت کے پردے کھول دیوے اور چونکہ چودھویں صدی کے شروع تک یہ بلا کمال تک پہنچ گئی تھی ، یعنی یہ مصیبت اور بلا جو ہے یہ اپنی انتہا کو پہنچ گئی تھی اس لئے اللہ تعالیٰ کے فضل اور عنایت نے چاہا کہ چودھویں صدی کا مجدد کسر صلیب کرنے والا ہو۔کیونکہ مجدد بطور طبیب کے ہے اور طبیب کا کام یہی ہے کہ جس بیماری کا غلبہ ہو اُس بیماری کی قلع قمع کی طرف توجہ کرے۔پس اگر یہ بات صحیح ہے کہ کسر صلیب مسیح موعود کا کام ہے تو یہ دوسری بات بھی صحیح ہے کہ چودھویں صدی کا مجد دجس کا فرض کسر صلیب ہے مسیح موعود ہے۔( کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 303 تا 305 حاشیہ ) پھر کسر صلیب کس طرح ہوگی؟ اس بارہ میں آپ فرماتے ہیں:۔اس جگہ طبعا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ مسیح موعود کو کیونکر اور کن وسائل سے کسر صلیب کرنا چاہئے؟ کیا جنگ اور لڑائیوں سے جس طرح ہمارے مخالف مولویوں کا عقیدہ ہے؟ یا کسی اور طور سے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مولوی لوگ ، خدا اُن کے حال پر رحم کرے ) اس عقیدہ میں سراسر غلطی پر ہیں۔مسیح موعود کا منصب ہرگز نہیں ہے کہ وہ جنگ اور لڑائیاں کرے بلکہ اس کا منصب یہ ہے کہ مُججِ عقلیہ، یعنی عقلی دلائل سے اور آیات سماویہ آسمانی نشانات سے اور دعا سے اس فتنہ کو فرو کرے۔یہ تین ہتھیار خدا تعالیٰ نے اُس کو دیئے ہیں اور تینوں میں ایسی اعجازی قوت رکھی ہے جس میں اُس کا غیر ہرگز اس سے مقابلہ نہیں کر سکے گا۔آخر اسی طور سے صلیب تو ڑا جائے گا۔یہاں تک کہ ہر ایک محقق نظر سے اُس کی عظمت اور بزرگی جاتی رہے گی۔جو بھی تحقیق کرنے کی نظر سے دیکھے گا، اس پر غور کرے گا ، اس پر صلیب کی عظمت اور بزرگی اور جواثر پڑا ہوا ہے، وہ ختم ہو جائے گا اور رفتہ رفتہ تو حید قبول کرنے کے وسیع دروازے کھلیں گے۔یہ سب کچھ تدریجاً ہوگا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کے سارے کام تدریجی ہیں۔کچھ ہماری حیات میں اور کچھ بعد میں ہوگا۔