خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 182
خطبات مسرور جلد 11 182 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء گندم گوں ہر گز نہیں کہا جا تا۔مگر ہندیوں کو آدم یعنی گندم گوں کہا جاتا ہے۔اس دلیل سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ وہ گندم گوں مسیح موعود جو آنے والا بیان کیا گیا ہے وہ ہر گز شامی نہیں ہے بلکہ ہندی ہے۔اس جگہ یاد رہے کہ نصاری کی تواریخ سے بھی یہی ثابت ہوتا ہے کہ حضرت عیسی گندم گوں نہیں تھے بلکہ عام شامیوں کی طرح سرخ رنگ تھے۔مگر آنے والے مسیح موعود کا حلیہ ہرگز شامیوں کا حلیہ نہیں ہے جیسا کہ حدیث کے الفاظ سے ظاہر ہے۔( کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 299 تا 302 حاشیہ) پھر آپ فرماتے ہیں کہ اس وقت کے مولوی اگر دیانت اور دین پر قائم ہو کر سوچیں تو انہیں ضرور اقرار کرنا پڑے گا کہ چودھویں صدی کے مجدد کا کام کسر صلیب ہے اور چونکہ یہ وہی کام ہے جو مسیح موعود سے مخصوص ہے اس لئے بالضرورت یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ چودھویں صدی کا مجدد مسیح موعود چاہئے اور اگر چہ چودھویں صدی میں فسق و فجور بھی مثل شراب خوری و زنا کاری و غیرہ بہت پھیلے ہوئے ہیں“۔یعنی بہت سارے فسق و فجور پھیلے ہوئے ہیں، مثلاً شراب خوری، زنا کاری ”مگر بغور نظر معلوم ہوگا کہ ان سب کا سبب ایسی تعلیمیں ہیں جن کا یہ مدعا ہے کہ ایک انسان کے خون نے گناہوں کی باز پرس سے کفایت کر دی ہے“۔یہ جو اتنی برائیاں پھیلی ہوئی ہیں، ان کی وجہ یہ ہے کہ یہ نظریہ قائم ہو گیا ہے، یہ تعلیم ہے کہ حضرت عیسیٰ کے کفارہ کی وجہ سے اُن سے اُن کے گناہوں کی باز پرس نہیں ہوگی ، پوچھا نہیں جائے گا۔فرمایا ” اسی وجہ سے ایسے جرائم کے ارتکاب میں یورپ سب سے بڑھا ہوا ہے۔اس میں سارے مغربی ممالک شامل ہیں اور دوسرے ممالک بھی جہاں چھوٹ ہے، اب تو ہر جگہ یہ پھیلتی چلی جا رہی ہے۔فرمایا ” پھر ایسے لوگوں کی مجاورت کے اثر سے یعنی اُن کی ہمسائیگی سے، اُن کے ساتھ بیٹھنے اُٹھنے سے عموماً ہر ایک قوم میں بے قیدی اور آزادی بڑھ گئی ہے۔اب صرف یہ یورپ کے ساتھ نہیں رہا، بلکہ جہاں بھی یہ پھیل رہے ہیں ، جار ہے ہیں، یا آجکل ٹیلی ویژن اور دوسرے ذرائع سے آزادی پہنچ رہی ہے ، وہاں بھی ہر قسم کی قید سے آزاد ہورہے ہیں اور بے حیائی بڑھتی چلی جارہی ہے۔فرمایا اگر چہ لوگ بیماریوں سے ہلاک ہو جائیں اور اگر چہ و با اُن کو کھا جائے مگر کسی کو خیال بھی نہیں آتا کہ یہ تمام عذاب شامت اعمال سے ہے۔“ بہت سارے عذاب جو آ رہے ہیں، طوفان ہے، زلزلے ہیں، یہ لوگوں کی شامت اعمال ہے، کوئی سوچتا نہیں۔اس کی کیا وجہ ہے؟ یہی تو ہے کہ خدا تعالیٰ کی محبت ٹھنڈی ہوگئی ہے اور اُس ذو الجلال کی عظمت دلوں پر سے گھٹ گئی ہے“۔پس آجکل بھی جو آفات آتی ہیں یہ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے اور ہمیں بھی دعاؤں کی طرف توجہ دینی چاہئے اور جو نہ ماننے والے ہیں اُن کو بھی سوچنا چاہئے۔