خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 181 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 181

خطبات مسرور جلد 11 181 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء اُس کی صحت پر گواہی دیں ، یعنی وہ دعوی کتاب اللہ کے مخالف نہ ہو۔دوسرے یہ کہ عقلی دلائل اُس کے مؤید اور مصدق ہوں۔تیسرے یہ کہ آسمانی نشان اُس مدعی کی تصدیق کریں۔سوان تینوں وجوہ استدلال کے رُو سے میرا دعویٰ ثابت ہے۔نصوص حدیثیہ جو طالب حق کو بصیرت کامل تک پہنچاتی ہیں“۔یعنی ان کا ثبوت جن سے اگر کوئی حق کا طالب ہے اور حق کا طالب ہونا شرط ہے، یہ نہیں کہ ڈھٹائی اور ضد ہو، تو وہ اُس کو کامل بصیرت تک پہنچاتی ہیں ، اُس کو حق دکھاتی ہیں اور میرے دعوی کی نسبت اطمینان کامل بخشتی ہیں، اُن میں سے مسیح موعود اور مسیح بنی اسرائیلی کا اختلاف حلیہ ہے۔چنانچہ صحیح بخاری کے صفحہ 485, 1055,876‘ ( بخاری کی جس کتاب کا آپ نے حوالہ دیا اس میں یہ صفحات لکھے ہوئے ہیں لیکن بہر حال بخاری میں باب نزول عیسی اور کتاب الانبیاء میں اس کا ذکر ہے۔جس میں دونوں کے مسیح بنی اسرائیل اور مسیح محمدی کے مسیح موعود کے حلیے درج ہیں جو علیحدہ علیحدہ ہیں۔فرمایا: ان حدیثوں وغیرہ میں جو مسیح موعود کے بارے میں حدیث ہے جس میں یہ بیان ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو عالم کشف میں خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا اُس میں اُس کا حلیہ یہ لکھا ہے کہ وہ گندم گوں تھا اور اُس کے بال گھونگر والے نہیں تھے بلکہ صاف تھے۔اور پھر اصل مسیح علیہ السلام جو اسرائیلی نبی تھا، اُس کا حلیہ یہ لکھا ہے کہ وہ سرخ رنگ تھا جس کے گھونگر والے بال تھے۔اور صحیح بخاری میں جابجایہ التزام کیا گیا ہے کہ آنے والے مسیح موعود کے حلیہ میں گندم گوں اور سید ھے بال لکھ دیا ہے اور حضرت عیسی کے حلیہ میں جابجا سرخ رنگ اور گھونگر والے بال لکھتا گیا ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے آنے والے مسیح موعود کو ایک علیحدہ انسان قرار دیا ہے اور اُس کی صفت میں اِمَامُكُمْ مِنْكُمْ بیان فرمایا ہے اور حضرت عیسی علیہ السلام کو علیحدہ انسان قرار دیا ہے۔اور بعض مناسبات کے لحاظ سے عیسی بن مریم کا نام دونوں پر اطلاق کر دیا ہے۔66 فرمایا’ اور ایک اور بات غور کرنے کے لائق ہے اور وہ یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جہاں مسیح موعود کا ذکر کیا ہے، اُس جگہ صرف اسی پر کفایت نہیں کی کہ اُس کا حلیہ گندم گوں اور صاف بال لکھا ہے بلکہ اُس کے ساتھ دجال کا بھی جا بجاذ کر کیا ہے۔مگر جہاں حضرت عیسی علیہ السلام بنی اسرائیلی کا ذکر کیا ہے، وہاں دقبال کا ساتھ ذکر نہیں کیا۔پس اس سے بھی ثابت ہوتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں عیسی بن مریم دو تھے۔ایک وہ جو گندم گوں اور صاف بالوں والا ظاہر ہونے والا تھا جس کے ساتھ دجال ہے۔اور دوسرا وہ جو سرخ رنگ اور گھونگریالے بالوں والا ہے اور بنی اسرائیلی ہے جس کے ساتھ دجال نہیں۔اور یہ بات بھی یادرکھنے کے لائق ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام شامی تھے اور شامیوں کو آدم یعنی