خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 180
خطبات مسرور جلد 11 180 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء تفرقہ پیدا ہو گیا تھا۔اور ایک دوسرے کے مکفر اور مکذب ہو گئے تھے۔اسی طرح یہ عاجز بھی ایسے وقت میں آیا ہے کہ جب اندرونی اختلافات انتہا تک پہنچ گئے اور ایک فرقہ دوسرے کو کافر بنانے لگا۔اس تفرقہ کے وقت میں اُمت محمدیہ کو ایک حکم کی ضرورت تھی۔سوخدا نے مجھے حکم کر کے بھیجا ہے“۔آج بھی آپ دیکھ لیں کہ کفر کے فتوے ایک دوسرے پر لگاتے ہیں چاہے۔جماعت احمدیہ کے لئے ، کافر بنانے کے لئے ، گالیاں دینے کے لئے ایک ہو جائیں، اکٹھے ہو جائیں لیکن پھر بھی ایک دوسرے پر ان کے فتوے جو ہیں وہ قائم ہیں۔پھر فرمایا: ” اور یہ ایک عجیب اتفاق ہو گیا ہے جس کی طرف نصوص قرآنیہ اور حدیثیہ کا اشارہ پایا جاتا ہے کہ جیسا کہ حضرت عیسی علیہ السلام حضرت موسیٰ سے تیرہ سو برس بعد چودھویں صدی میں پیدا ہوئے اسی طرح یہ عاجز بھی چودھویں صدی میں خدا تعالیٰ کی طرف سے مبعوث ہوا۔معلوم ہوتا ہے کہ اسی لحاظ سے بڑے بڑے اہل کشف اسی بات کی طرف گئے کہ وہ مسیح موعود چودھویں صدی میں مبعوث ہوگا“۔فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے میرا نام غلام احمد قادیانی رکھ کر اسی بات کی طرف اشارہ فرمایا کیونکہ اس نام میں تیرہ سو کا عدد پورا کیا گیا ہے۔غلام احمد قادیانی میں حروف ابجد کے لحاظ سے تیرہ سو کا عدد پورا ہوتا ہے غرض قرآن اور احادیث سے اس بات کا کافی ثبوت ملتا ہے کہ آنے والا مسیح چودھویں صدی میں ظہور کرے گا اور وہ تفرقہ مذاہب اسلام اور غلبہ با ہمی عناد کے وقت میں آئے گا۔( کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 254 تا 258 حاشیہ ) پھرا اپنی صداقت کا ایک اور ثبوت دیتے ہیں۔فرمایا کہ: فصوص الحکم میں شیخ ابن العربی اپنا ایک کشف یہ لکھتے ہیں کہ وہ خاتم الولایت ہے اور تو ام پیدا ہوگا۔( یعنی مسیح موعود )۔اور ایک لڑکی اُس کے ساتھ متولد ہوگی۔اور وہ چینی ہوگا۔یعنی اُس کے باپ دادے چینی ممالک میں رہے ہوں گے۔سوخدا تعالیٰ کے ارادے نے ان سب باتوں کو پورا کر دیا۔میں لکھ چکا ہوں کہ میں تو ام پیدا ہوا تھا ( جڑواں پیدا ہوا تھا) اور میرے ساتھ ایک لڑکی تھی اور ہمارے بزرگ سمرقند میں جو چین سے تعلق رکھتا ہے (کتاب البریۃ۔روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 313 حاشیہ) رہتے تھے۔“ پھر آپ فرماتے ہیں: میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ قرآن شریف کی رُو سے کوئی دعوی مامور من اللہ ہونے کا اکمل اور اتم طور پر اُس صورت میں ثابت ہوسکتا ہے جبکہ تین پہلو سے اس کا ثبوت ظاہر ہو۔اوّل یہ کہ نصوص صریحہ