خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 179 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 179

خطبات مسرور جلد 11 179 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء اور پھر زیادہ تر اطمینان کے لئے آسمانی تائیدات میرے شامل حال کی ہیں۔آپ نے یہ فارسی شعر آگے لکھا ہے کہ چوں مرا حکم از پئے قوم مسیحی داده اند مصلحت را ابن مریم نام من بنهاده اند آسماں بار دنشان الوقت می گوید ز میں ایس دو شاہد از پئے تصدیق من استادہ اند کہ مجھے چونکہ مسیح کی قوم کے لئے حکم دیا گیا ہے، اس لئے میرا نام ابنِ مریم رکھا گیا ہے۔آسمان نشان برسا رہا ہے، زمین بھی کہہ رہی ہے کہ یہی وقت ہے۔یہ دو گواہ میری تصدیق کے لئے کھڑے ہیں۔فرماتے ہیں: ”اب تفصیل اس کی یہ ہے کہ اشارات نص قرآنی سے ثابت ہوتا ہے کہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم مثیل موسیٰ ہیں اور آپ کا سلسلۂ خلافت حضرت موسیٰ کے سلسلۂ خلافت سے بالکل مشابہ ہے۔اور جس طرح حضرت موسیٰ کو وعدہ دیا گیا تھا کہ آخری زمانہ میں یعنی جبکہ سلسلہ اسرائیلی نبوت کا انتہا تک پہنچ جائے گا اور بنی اسرائیل کئی فرقے ہو جائیں گے اور ایک، دوسرے کی تکذیب کرے گا یہاں تک کہ بعض بعض کو کافر کہیں گے۔تب اللہ تعالیٰ ایک خلیفہ حامی دینِ موسی یعنی حضرت عیسی علیہ السلام کو پیدا کرے گا۔اور وہ بنی اسرائیل کی مختلف بھیڑوں کو اپنے پاس اکٹھی کرے گا۔اور بھیڑ یئے اور بکری کو ایک جگہ جمع کر دے گا۔اور سب قوموں کے لئے ایک حکم بن کر اندرونی اختلاف کو درمیان سے اٹھا دے گا۔مطلب یہ کہ مظلوم قوموں کو اور ظالم قوموں کو اکٹھا کرے گا۔” اور بغض اور کینوں کو دور کر دے گا۔یہی وعدہ قرآن میں بھی دیا گیا تھا جس کی طرف یہ آیت اشارہ کرتی ہے کہ آخَرِيْنَ مِنْهُمْ لَمَّا يَلْحَقُوا (الجمعۃ : 4 ) اور حدیثوں میں اس کی بہت تفصیل ہے۔چنانچہ لکھا ہے کہ یہ امت بھی اسی قدر فرقے ہو جائیں گے جس قدر کہ یہود کے فرقے ہوئے تھے۔اور ایک دوسرے کی تکذیب اور تکفیر کرے گا۔ایک دوسرے کو جھوٹا اور کافر کہیں گئے اور یہ سب لوگ عناد اور بغض باہمی میں ترقی کریں گئے۔یعنی ایک دوسرے سے بغض میں اور ایک دوسرے سے دشمنی میں بڑھتے چلے جائیں گے ” اُس وقت تک کہ مسیح موعود حکم ہو کر دنیا میں آوے۔اور جب وہ حکم ہو کر آئے گا تو بغض اور حنا ء کو دور کر دے گا۔“ یعنی بغض اور کینہ اور دشمنی جو ہے اُس کو دور کر دے گا اور اس کے زمانہ میں بھیڑیا اور بکری ایک جگہ جمع ہو جائیں گے۔یہ ظالم اور مظلوم جو ہیں، یا کمزور اور طاقتور جو ہیں وہ اکٹھے ہو کر ایک دین پر قائم ہوں گے اور صرف خدا تعالیٰ کی جو رضا ہے اُس کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے چنانچہ یہ بات تمام تاریخ جاننے والوں کو معلوم ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام ایسے ہی وقت میں آئے تھے کہ جب اسرائیلی قوموں میں بڑا يلم