خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 178 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 178

خطبات مسرور جلد 11 178 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 مارچ 2013ء ہو گئی ہیں۔مدت ہوئی کہ خسوف کسوف رمضان کے مہینے میں ہو چکا ہے۔چاند اور سورج گرہن کا جو نشان تھا وہ ظاہر چکا ہے اور ستارہ ذوالسنین بھی نکل چکا دمدار ستارہ اور زلزلے بھی آئے اور مری بھی پڑی“۔یعنی ایسی بیماری جو طاعون وغیرہ۔فرمایا ”مری بھی پڑی اور عیسائی مذہب بڑے زور شور سے دنیا میں پھیل گیا اور جیسا کہ آثار میں پہلے سے لکھا گیا تھا، بڑے تشدد سے میری تکفیر بھی ہوئی“۔یہ بھی پیشگوئی تھی۔پہلے بزرگ لکھ گئے تھے کہ مسیح موعود آئے گا تو اُس کی تکفیر بھی ہوگی ، اُسے کافر کہیں گے، جھوٹا کہیں گے۔فرمایا کہ " غرض تمام علامات ظاہر ہو چکی ہیں اور وہ علوم اور معارف ظاہر ہو چکے ہیں جو دلوں کو حق کی طرف ہدایت دیتے ہیں۔کتاب البریہ۔روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 299-298 حاشیہ ) پس یہ آپ نے اپنی صداقت کے بارے میں فرمایا کہ یہ ساری چیز میں ظاہر ہو رہی ہیں ، پھر بھی تم لوگ ہوش نہیں کرتے۔پھر اسی طرح ایک اور جگہ آپ فرماتے ہیں کہ میں دیکھتا ہوں کہ وہ لوگ جو نیچر اور صحیفہ قدرت کے پیر و بنا چاہتے ہوں اُن کے لئے خدا تعالیٰ نے یہ نہایت عمدہ موقع دیا ہے کہ وہ میرے دعوے کو قبول کریں۔کیونکہ وہ لوگ ان مشکلات میں گرفتار نہیں ہیں جن میں ہمارے دوسرے مخالف گرفتار ہیں۔کیونکہ وہ خوب جانتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے۔جولوگ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام فوت ہو گئے ہیں اُن کو مسیح موعود کے دعویٰ پر غور کرنا چاہئے۔فرمایا اور پھر ساتھ اس کے انہیں یہ بھی ماننا پڑتا ہے کہ مسیح موعود کی نسبت جو پیشگوئی احادیث میں موجود ہے وہ ان متواترات میں سے ہے جن سے انکار کرناکسی عنظمند کا کام نہیں۔پس اس صورت میں یہ بات ضروری طور پر انہیں قبول کرنی پڑتی ہے کہ آنے والا مسیح اسی اُمت میں سے ہوگا۔البتہ یہ سوال کرنا اُن کا حق ہے کہ ہم کیونکر یہ دعویٰ مسیح موعود ہونے کا قبول کریں؟ یہ تو ٹھیک ہے کہ اس امت میں مسیح موعود ہوگا، لیکن یہ کس طرح صحیح ثابت ہوتا ہے کہ آپ نے جو دعویٰ کیا ہے، وہ صحیح ہے؟ تو فرمایا اور اس پر دلیل کیا ہے کہ وہ مسیح موعود تم ہی ہو؟ فرمایا’ اس کا جواب یہ ہے کہ جس زمانہ اور جس ملک اور جس قصبہ میں مسیح موعود کا ظاہر ہونا قرآن شریف اور احادیث سے ثابت ہوتا ہے اور جن افعال خاصہ کو مسیح کے وجود کی علت غائی ٹھہرایا گیا ہے یعنی یہ ضروری چیز ٹھہرایا گیا ہے اور جن حوادث ارضی اور سماوی کو مسیح موعود کے ظاہر ہونے کی علامات بیان فرمایا گیا ہے اور جن علوم اور معارف کو مسیح موعود کا خاصہ ٹھہرایا گیا ہے، وہ سب باتیں اللہ تعالیٰ نے مجھ میں اور میرے زمانہ میں اور میرے ملک میں جمع کر دی ہیں