خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 171 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 171

خطبات مسرور جلد 11 171 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء محفوظ رہیں۔پس جیسا کہ میں نے کہا، ہر احمدی کو پہلے سے بڑھ کرصبر اور دعا کے ساتھ زندگی گزارنے کی ضرورت ہے۔مختلف شہروں میں مختلف علاقوں میں احمدیوں کے خلاف ان شر پسندوں کی منصوبہ بندیاں ہوتی رہتی ہیں۔لیکن ہمارا خدا خَيْرُ الماکرین ہے۔ان کے منصوبوں کو ان پر الٹانے والا ہے اور الٹا رہا ہے۔وہی ہے جس نے اب تک ہمیں اُن کے خوفناک منصوبوں سے محفوظ رکھا ہوا ہے۔پس جیسا کہ میں نے کہا خدا کے دامن کو کبھی نہ چھوڑیں۔پہلے بھی کچھ عرصہ ہوا، میں جماعت کو اس طرف توجہ دلا چکا ہوں کہ اپنے عملوں کو خدا تعالیٰ کی رضا کے مطابق ڈھالتے ہوئے اجتماعی رنگ میں اس کے آگے جھک جائیں تو تھوڑے عرصہ میں انشاء اللہ تعالیٰ انقلاب آ سکتا ہے۔مستقل مزاجی سے دعاؤں کی طرف توجہ دیتے چلے جانے کے بارے میں ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ: دعا اور اُس کی قبولیت کے زمانہ کے درمیانی اوقات میں بسا اوقات ابتلا پر ابتلا آتے ہیں اور ایسے ایسے ابتلا بھی آجاتے ہیں کہ کمر توڑ دیتے ہیں۔مگر مستقل مزاج ، سعید الفطرت، ان ابتلاؤں اور مشکلات میں بھی اپنے رب کی عنایتوں کی خوشبو سونگھتا ہے اور فراست کی نظر سے دیکھتا ہے کہ اس کے بعد نصرت آتی ہے۔ان ابتلاؤں کے آنے میں ایک ستر یہ بھی ہوتا ہے کہ دعا کے لئے جوش بڑھتا ہے۔کیونکہ جس جس قدر اضطرار اور اضطراب بڑھتا جاوے گا اُسی قدر روح میں گدازش ہوتی جائے گی اور یہ دعا کی قبولیت کے اسباب میں سے ہیں۔پس کبھی گھبرانا نہیں چاہئے اور بے صبری اور بے قراری سے اپنے اللہ پر بدظن نہیں ہونا چاہئے۔یہ کبھی بھی خیال کرنا نہ چاہئے کہ میری دعا قبول نہ ہوگی یا نہیں ہوتی۔ایسا وہم اللہ تعالیٰ کی اس صفت سے انکار ہو جاتا ہے کہ وہ دعائیں قبول فرمانے والا ہے۔66 ( ملفوظات جلد دوم صفحہ 707-708 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) یعنی اگر انسان اس قسم کی باتیں سوچے تو پھر وہ لاشعوری طور پر اللہ تعالیٰ کی جو دعائیں قبول فرمانے کی صفت ہے، اس کا انکار کر رہا ہوتا ہے۔پس ہمارا کام اپنے اندر استقلال پیدا کرنا ہے۔ہمیں اُن شرائط کے ساتھ دعاؤں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت ہے جن میں سے چند ایک میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے حوالے سے بیان کی ہیں۔ہمیں ہمیشہ اس یقین پر قائم رہنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ کا قول کبھی غلط نہیں ہوتا۔جب اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ أُجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ (البقرة : 187 ) کہ دعا کو اس کی شرائط کے ساتھ مانگو،