خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 167 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 167

خطبات مسرور جلد 11 167 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء قرآن کریم نے متعدد جگہ جو دعا کے مضمون پر کھل کر روشنی ڈالی ہے اس کو ہمیں سمجھنے کی کوشش کرنی چاہئے اور اس کے لئے جیسا کہ میں نے کہا ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نظر سے دیکھنے کی ضرورت ہے تا کہ ہم دعا کی حکمت اور فلاسفی اور دعا کرنے کے طریق کو سمجھ کر دعا کی طرف توجہ دینے والے ہوں۔اور نہ صرف دعا کی طرف توجہ کرنے والے ہوں بلکہ نتیجہ خیز دعاؤں کے حصول کی کوشش کرنے والے ہوں۔ایسی دعائیں کرنے والے ہوں جن کا نتیجہ نکلتا ہو۔کیونکہ اس کے بغیر زندگی بے مقصد ہے۔نتیجہ خیز دعاؤں کی انسانوں کو اپنی زندگیاں سنوارنے کے لئے ضرورت ہے۔خدا تعالیٰ کو اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم اُس کی عبادت کرتے ہیں یا نہیں، اُس سے کچھ مانگتے ہیں یا نہیں۔دعاؤں اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق دعاؤں اور پھل لانے والی دعاؤں کی ہمیں ضرورت ہے نہ کہ خدا تعالیٰ کو، وہ تو بے نیاز ہے۔اسی لئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ اعلان کرواتا ہے کہ یہ اعلان کر دو کہ قُلْ مَا يَعْبَؤُا بِكُمْ رَبِّي لَوْلَا دُعَاؤُكُمْ (الفرقان : 78) یعنی کہہ دے کہ میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے،اگر تمہاری طرف سے دعا ہی نہ ہو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں کہ : کامل عابد وہی ہو سکتا ہے جو دوسروں کو فائدہ پہنچائے لیکن اس آیت میں اور بھی صراحت ہے“ ( مزید کھول کر بیان کیا ہے ) یعنی ان لوگوں کو کہہ دو کہ اگر تم لوگ رب کو نہ پکارو تو میرا رب تمہاری پرواہ ہی کیا کرتا ہے“۔( فرمایا کہ ) یا دوسرے الفاظ میں یوں کہہ سکتے ہیں کہ وہ عابد کی پرواہ کرتا ہے“۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 221 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) دعائیں کرنے والوں کی پرواہ کرتا ہے۔اس کی عبادت، اپنی عبادت کرنے والوں کی پرواہ کرتا ہے۔پس اللہ تعالیٰ سے اگر تعلق جوڑنا ہے، اپنی نیک خواہشات کی تکمیل کروانی ہے، دشمن کی ناکامی کے نظارے دیکھنے ہیں تو ہمیں عابد بننے کی طرف توجہ دینی ہوگی، حقیقی عابد بننے کی طرف توجہ کرنے کی کوشش کرنی ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہم میں سے ہر ایک کو صحیح عابد بنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم میں یہ روح پیدا کرے تا کہ ہم دشمنوں کے بد انجام کو دیکھنے والے ہوں۔آج کل دشمن، وہ لوگ جن کے دل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے دشمنی ، کینہ اور بغض میں اس قدر بھر چکے ہیں کہ جس کی انتہا کوئی نہیں رہی۔خاص طور پر پاکستان میں اور پھر ہندوستان کے کچھ علاقوں میں بھی ، یا اُن کے زیر اثر بعض مسلمان افریقن ممالک کے چھوٹے چھوٹے قصبوں میں ان سے ہر قسم