خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 166
خطبات مسرور جلد 11 166 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ : اللہ کا رحم ہے اُس شخص پر جو امن کی حالت میں اسی طرح ڈرتا ہے جس طرح کسی (پر) مصیبت کے وارد ہونے پر ڈرتا ہے۔جو امن کے وقت خدا تعالیٰ کو نہیں بھلا تا خدا تعالیٰ اُسے مصیبت کے وقت ( میں ) نہیں بھلاتا۔اور جو امن کے زمانہ کو عیش میں بسر کرتا ہے اور مصیبت کے وقت دعائیں کرنے لگتا ہے تو اس کی دعائیں بھی قبول نہیں ہوتیں۔جب عذاب الہی کا نزول ہوتا ہے تو تو بہ کا دروازہ بند ہو جاتا ہے۔پس کیا ہی سعید وہ ہے جو عذاب الہی کے نزول سے پیشتر دعا میں مصروف رہتا ہے،صدقات دیتا ہے اور امرالہی کی تعظیم (یعنی جو حکم خدا تعالیٰ نے دیئے ہیں انہیں پورے عزت واحترام کے ساتھ بجالانے کی کوشش کرتا ہے ) اور خلق اللہ پر شفقت کرتا ہے۔اپنے اعمال کو سنوار کر بجالاتا ہے۔یہی ( ہیں جو ) سعادت کے نشان ہیں۔درخت اپنے پھلوں سے پہچانا جاتا ہے۔اسی طرح سعید اور شقی کی شناخت بھی آسان ہوتی ہے۔( ملفوظات جلد دوم صفحہ 539 ایڈیشن 2003، مطبوعہ ربوہ ) یعنی سعید فطرت کے نیک عمل اُس پھل کی طرح ہیں جو میٹھا ہے اور پر لذت ہے۔جس کے پھل کو دیکھ کے سب کہیں، جس کو چکھ کر سب کہیں کہ یہ میٹھا پھل دینے والا درخت ہے۔شقی وہ بد بخت انسان ہے جس کے عمل نہ اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے والے ہیں اور نہ ہی اُس کے بندوں کا حق ادا کرنے والے ہیں۔گویا کڑوا اور بد بودار پھل دینے والا درخت ہے۔66 پس یہ چند اقتباسات میں نے اس لئے پیش کئے کہ ہمیں خدا تعالیٰ سے تعلق کا مزید ادراک پیدا ہو۔اس لئے کہ ہمیں دعا کرنے کے اسلوب اور طریقوں کا پتہ چلے۔اس لئے کہ ہمیں اپنی اصلاح کی طرف توجہ پیدا ہو۔اچھے اور برے کے فرق کو دیکھ کر ہم اعمال صالحہ کی طرف توجہ دینے والے ہوں۔ہمیں دعاؤں کے صحیح طریق کو اپناتے ہوئے دعاؤں کی طرف توجہ پیدا ہو۔تا کہ ہم اُن لوگوں میں شامل ہوں جو دنیا کی حسنہ سے بھی حصہ لینے والے ہیں اور آخرت کی حسنہ سے بھی حصہ لینے والے ہیں۔تا کہ ہم ذاتی اور جماعتی مقاصد کے حصول میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنے والے ہوں۔پس یہ وہ اہم مضمون ہے جسے ایک مسلمان کو ، اس مسلمان کو جس نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو مانا ہے، جس نے زمانے کے امام اور مسیح و مہدی موعود کی بیعت میں آنے کی سعادت پائی ہے۔اُس کو ان باتوں کو سمجھنے اور عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تا کہ حقیقی مومن اور جو صرف ایمان کا دعوی کرنے والا ہے اُس میں فرق پیدا ہو جائے۔واضح ہو جائے کہ حقیقی مومن کون ہے اور وہ کون ہے جو صرف مومن ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔