خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 165
خطبات مسرور جلد 11 165 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء دعاؤں کی قبولیت کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرے۔اگر بدیوں سے نہیں بچ سکتا اور خدا تعالیٰ کی حدود کو توڑتا ہے تو دعاؤں میں کوئی اثر نہیں رہتا۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 21 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک اور موقع پر فرماتے ہیں کہ : اللہ تعالیٰ سے تعلق کے لئے ایک محویت کی ضرورت ہے۔ہم بار بارا اپنی جماعت کو اس پر قائم ہونے کے لیے کہتے ہیں۔کیونکہ جب تک دنیا کی طرف سے انقطاع اور اس کی محبت دلوں سے ٹھنڈی ہو کر اللہ تعالیٰ کے لیے فطرتوں میں طبعی جوش اور محویت پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک ثبات میسر نہیں آسکتا۔“ ( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 33 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) یعنی فطری جوش ہے جو بندے اور خدا کے تعلق کو قائم کرتا ہے اور اُس کو مضبوط کرتا ہے۔پس اس فطری جوش اور مکمل طور پر خدا تعالیٰ کی طرف توجہ رکھنے کی ہمیں کوشش کرنی چاہئے۔یہ فطری جوش بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے، اللہ تعالیٰ سے دعا مانگتے ہوئے پیدا ہو گا۔پھر آپ علیہ السلام ایک جگہ فرماتے ہیں:۔دعاؤں میں جوڑ و بخدا ہوکر توجہ کی جاوے تو پھر ان میں خارق عادت اثر ہوتا ہے۔لیکن یہ یاد رکھنا چاہیے کہ دعاؤں میں قبولیت خدا تعالیٰ ہی کی طرف سے آتی ہے اور دعاؤں کے لیے بھی ایک وقت ( ہوتا ہے جیسے صبح کا ایک خاص وقت ہے۔اس وقت میں خصوصیت ہے وہ دوسرے اوقات میں نہیں۔اسی طرح پر دعا کے لیے بھی بعض اوقات ہوتے ہیں جبکہ ان میں قبولیت اور اثر پیدا ہوتا ہے۔( ملفوظات جلد چہارم صفحہ 309 ایڈ یشن 2003ء مطبوعہ ربوہ ) ہر کام میں صبح کے وقت تازہ دم ہو کر جو کام انسان کرتا ہے اُس کے نتائج بہترین ہوتے ہیں۔آجکل کے ان لوگوں کی طرح نہیں جو ساری رات یا رات دیر تک یا تو انٹرنیٹ پر بیٹھے رہتے ہیں یا ٹی وی کے سامنے بیٹھے رہتے ہیں یا اور دنیاوی کاموں میں ملوث رہتے ہیں۔اُن کی رات کو نیند پوری نہیں ہوتی۔صبح اُٹھتے ہیں تو ادھ پچڈی نیند کے ساتھ ، اُس میں نماز کیا ادا ہو گی ؟ اور ان کے دوسرے کاموں میں کیا برکت پڑے گی۔ہر شخص چاہے دنیا دار بھی ہو اپنے بہترین کام کے لئے تازہ دم ہو کر کام کرنے کی کوشش کرتا ہے تا کہ پوری توجہ سے کام ہو۔اُس کام کے بہترین نتائج ظاہر ہوں۔پس آپ نے فرمایا کہ اس طرح تمہیں یہ بھی تلاش کرنا چاہئے کہ تمہارے دعاؤں کے بہترین اوقات کیا ہیں؟ وہ کیفیت کب پیدا ہوتی ہے جب دعا قبول ہوتی ہے۔