خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 164 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 164

خطبات مسرور جلد 11 164 11 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 15 مارچ 2013ء خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسروراحمد خلیفہ السیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ مؤرخہ 15 / مارچ 2013ء بمطابق 15 رامان 1392 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح - لندن تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ان آیات کی تلاوت فرمائی: قَالُوا رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًا ضَالِينَ - رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْهَا فَإِن عُدْنَا فَإِنَّا ظَالِمُونَ۔قَالَ اخْسَنُوا فِيهَا وَلَا تُكَلِّمُونِ - إِنَّهُ كَانَ فَرِيقٌ مِّنْ عِبَادِى يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّحِمِينَ - فَاتَّخَذْتُمُوهُمْ سِخَرِيًّا حَتَّى انْسَوْكُمْ ذِكْرِى وَكُنْتُمْ مِّنْهُمْ تَضْحَكُونَ إِنِّي جَزَيْتُهُمُ الْيَوْمَ بِمَا صَبَرُوا أَنَّهُمْ هُمُ الْفَائِزُونَ (المؤمنون: 107 تا 112) گزشتہ جمعہ کے خطبہ میں میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباس کے حوالے سے جو خطبہ کے ابتدا میں ہی میں نے پڑھا تھا، یہ بتایا تھا کہ دعا کیا ہے؟ دعا سے کس طرح تسلی اور سکینت ملتی ہے؟ دعا کی فلاسفی کیا ہے اور کس طرح مانگنی چاہئے؟ یعنی دعامانگنے کا معیار کیا ہے جو ایک مومن کو اختیار کرنا چاہئے۔اصل میں تو دعا کی یہ روح اور فلاسفی قرآنِ کریم کی ہی بیان فرمودہ ہے، اُس میں بیان ہوئی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خدا تعالیٰ سے علم پا کر کھول کر ہمارے سامنے بیان فرمائی۔اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام کے بعض اور ارشادات بھی ہیں جو بڑے مختصر ارشادات ہیں لیکن دعا کرنے اور دعا کی حقیقت جاننے کے ایسے طریقے اور اسلوب ہیں جن پر عمل کر کے ایک انسان خدا تعالیٰ کا قرب پانے والا اور دعا کی حقیقت جاننے والا بن جاتا ہے۔آپ علیہ السلام اپنی ایک مجلس میں فرماتے ہیں کہ :