خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 161 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 161

خطبات مسرور جلد 11 161 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء پاکستان کے احمدیوں کو بھی خاص طور پر کہتا ہوں کہ اپنے جائزے لیتے ہوئے اس طرف خاص توجہ دیں۔اپنی نمازوں میں ان دعاؤں کو خاص جگہ دیں۔اور ہر احمدی دعاؤں کی وہ روح اپنے اندر پیدا کرے جو جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے دعا کو کمال تک پہنچا دے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔جیسا کہ میں نے کہا کہ کراچی میں ایک بم دھماکے سے ایک احمدی شہید ہو گئے۔اسی طرح پاکستان میں ایک اور وفات بھی ہوئی ہے جو ہمارے ایک دیرینہ خادمِ سلسلہ تھے۔تو ان دونوں کے جنازہ غائب میں نمازوں کے بعد پڑھاؤں گا۔ان کے مختصر کوائف پیش کر دیتا ہوں۔جو شہید ہوئے ہیں اُن کا نام مکرم ومحترم مبشر احمد عباسی صاحب ابن مکرم نا در بخش عباسی صاحب ہے۔3 مارچ 2013ء کو ان کی شہادت ہوئی۔مبشر احمد عباسی صاحب مرحوم کے خاندان میں آپ کے پڑدادا مکرم و محترم تونگر علی عباسی صاحب کے ذریعہ احمدیت آئی۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دستِ مبارک پر بیعت کی۔ان کا خاندان کا تعلق علی پور کھیڑا یا کھیڑ ایوپی انڈیا سے تھا۔آپ کے خاندان میں آپ کے دو پھوپھا محمد صادق عارف صاحب اور مکرم محمد یوسف صاحب گجراتی درویش قادیان تھے۔آپ کے دادا انڈین پولیس میں تھے۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے زندگی وقف کر دی اور قادیان میں بطور انسپکٹر بیت المال کے خدمت کی توفیق پائی۔مبشر احمد عباسی صاحب جو شہید ہیں، 1968ء میں گوجرانوالہ میں پیدا ہوئے۔45 سال کی ان کی عمر تھی۔ملازمت کی غرض سے 1982ء میں کراچی چلے گئے۔شہادت کے وقت کراچی کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں ملازمت کر رہے تھے۔3 مارچ 2013ء کی شام نماز مغرب کے وقت عباس ٹاؤن کراچی میں ایک بم دھما کہ ہوا جس کے نتیجہ میں 50 سے زائد افراد جاں بحق ہوئے اور متعدد افراد زخمی ہوئے۔ان کی رہائش بھی عباس ٹاؤن میں ہی تھی۔واقعہ سے پانچ منٹ پہلے کچھ ادویات وغیرہ لینے کے لئے گھر سے نکلے اور دھماکے کی زد میں آگئے۔شنید ہے کہ مبشر عباسی صاحب دھماکے کی جگہ کے بہت قریب تھے اور موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ابتدائی طور پر آپ کے لا پتہ ہونے کی اطلاع ملی تھی۔بعد میں ٹیلی فون پر اطلاع کے ذریعہ سے ہسپتال جا کر آپ کی شناخت ہوئی۔مبشر عباسی صاحب انتہائی اچھی اور ملنسار طبیعت کے مالک تھے۔بچوں اور اہلیہ کے ساتھ اور بہن بھائیوں کے ساتھ اچھا تعلق تھا۔ان کی اہلیہ کے علاوہ ایک بیٹی خدیجہ مبشر بارہ سال کی اور ایک بیٹا نا در بخش دس سال کی عمر کے ہیں۔ان کے علاوہ تین بہن بھائی ہیں۔