خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 159 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 159

خطبات مسر در جلد 11 159 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 8 مارچ 2013ء پھر یہ دعا سکھائی کہ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَالَا طَاقَةَ لَنَابِہ بعض دفعہ دوسروں کی سزا کا بھی اثر انسان پر پڑتا ہے۔یا کسی نہ کسی طریقے سے اثر پہنچ رہا ہوتا ہے۔اس لئے اس سے بچنے کی بھی دعا سکھائی کہ اللہ تعالیٰ دوسروں کے قصور کی سزا کے اثرات سے بھی بچائے رکھے۔لڑائی اور جنگ میں دہشت گردی کے حملوں میں جن کو مارنا مقصود نہیں ہوتا، وہ بھی مارے جاتے ہیں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے، کسی خاص گروپ کو مارنا چاہتے تھے لیکن وہاں جو بھی گیا وہ مر گیا۔معصوم بچے بھی مرجاتے ہیں۔حضرت مصلح موعود نے بیان فرمایا ہے کہ مالا طاقة لنا به کی شرط اس لئے ہے کہ یہاں ناراضگی کا سوال نہیں ، بلکہ دنیاوی مسائل اور ابتلاؤں کا ذکر ہے۔ناراضگی تو خدا تعالیٰ کی چھوٹی بھی برداشت نہیں ہوتی لیکن چھوٹی تکلیف برداشت کر لی جاتی ہے۔پس روحانی سزا میں یہ دعا ہے کہ ہمیں تیری کسی ناراضگی کو برداشت کرنے کی طاقت نہیں۔مگر جب دنیاوی تکالیف کا ذکر آیا تو وہاں یہ دعا سکھائی کہ مجھے چھوٹے موٹے ابتلاؤں پر اعتراض نہیں۔میں یہ نہیں کہتا کہ ہمیشہ پھولوں کی پیج پر چلتا ر ہوں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کی آزمائش کے لئے فرمایا ہے کہ میں امتحان لوں گا۔البتہ وہ ابتلاء جو دنیا میں تیری ناراضگی کا موجب نہیں ہیں اور دنیا میں آتے رہتے ہیں، اُن کے بارے میں میری یہ دعا ہے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ ابتلا میری طاقت سے بالا ہو۔مومن ابتلاؤں کی خواہش نہیں کرتا۔لیکن جیسا کہ میں نے کہا خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ میں مومن کو آزماتا ہوں ، اس لئے آزمائش کو آسان کرنے کی دعا بھی سکھا دی۔(ماخوذ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحه 659) اور پھر فرمایا کہ یہ دعا کرو کہ وَاعْفُ عَنَّا مجھ سے عفو کر اور بد نتائج سے مجھے بچالے وَاغْفِرْ لَنَا جو غلط کام میرے سے ہو گئے ہیں اُن کے نتائج اور اثرات سے مجھے بچالے۔میرے غلط کاموں پر پردہ ڈال دے اور یوں ہو جائے جیسے میں نے غلط کام کیا ہی نہیں۔عفو کے معنی رحم کے بھی ہوتے ہیں اور جو چیز کسی انسان سے رہ جائے ، اُس کا ازالہ اسی صورت میں ہوتا ہے کہ وہ مہیا کر دی جائے۔پس وَاعْفُ عَنَّا میں یہ فرمایا کہ میرے عمل میں سے جو چیز رہ گئی ہے، یا میرے کام میں جو چیز رہ گئی ہے تو اسے اپنے رحم اور فضل سے مہیا فرما دے۔وارحمنا یعنی جو بھی میرے سے غلطیاں ہوئی ہیں اور میری ترقی کے راستے میں روک ہیں یا میری وجہ سے جماعتی ترقی پر اثر انداز ہوسکتی ہیں ان غلطیوں کے متعلق مجھ پر رحم کر اور ترقیات کے راستے میں تمام روکوں کو دور فرما دے۔انت مؤلنا۔کہ تو ہمارا مولیٰ ہے۔ہمارا آتا ہے۔لوگوں نے ہماری کمزوریاں تیری طرف منسوب کرنی ہیں۔آج دنیا میں ایک ہی جماعت ہے جس کا یہ دعوئی ہے کہ ہم جماعت ہیں۔کوئی