خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 147 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 147

خطبات مسرور جلد 11 147 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ یکم مارچ 2013ء اللہ تعالیٰ جلد اس سے بھی مسلمان ملکوں کو خصوصاً اور دنیا کو عموماً نجات دلائے تا کہ ہم اسلام کی خوبصورت تعلیم کو زیادہ بہتر رنگ میں اور زیادہ تیزی سے دنیا میں پھیلا سکیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی تو فیق عطا فرمائے۔آج جمعہ کے بعد بھی میں ایک جنازہ غائب پڑھاؤں گا۔یہ جنازہ غائب مکرمہ ناصرہ سلیمہ رضا صاحبہ کا ہے جو زائن امریکہ کی افریقن امریکن احمدی تھیں۔18 فروری 2013ء کو ان کی وفات ہوئی۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ - 1927ء میں سینٹ لوئس، امریکہ میں پیدا ہوئی تھیں۔ان کے والد بیپٹسٹ (Baptist) پادری تھے مگر خود انہوں نے عیسائیت میں دلچسپی نہیں رکھی۔البتہ یوگا اور بدھ ازم میں دلچسپی رکھتی تھیں لیکن بطور مذہب کے اس کو تسلیم نہیں کیا۔ان کو 1949ء میں ڈاکٹر خلیل احمد صاحب ناصر مرحوم کے ذریعہ احمدیت کے قبول کرنے کی سعادت حاصل ہوئی۔1951ء میں ان کی شادی محترم ناصر علی رضا صاحب مرحوم کے ساتھ ہوئی جو کئی سال جماعت کنو شاو ویگن کے صدر جماعت رہے۔1955ء میں ان کی فیملی ملوا کی منتقل ہوگئی جہاں سیکرٹری تعلیم کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پائی۔اس دوران اپنی فیملی کے علاوہ سیہ تین دیگر فیملیز کی تعلیم و تربیت کا بھی انتظام کرتی رہیں۔1975ء میں آپ ریجنل صدر لجنہ مقرر ہوئیں۔81ء سے 85ء تک دوبارہ ریجنل صدر مقرر ہوئیں۔لجنہ اماءاللہ کی پانچ مجالس کی نگرانی کرتی رہیں اور بطور لوکل صدر بھی کام کرتی رہیں۔85 ء سے 95 ء تک مختلف عہدوں پر مقامی لجنہ اماءاللہ کی خدمات سرانجام دیتی رہیں۔95ء میں دوبارہ صدر لجنہ ووکلیگن مقر ہوئیں۔تبلیغ کا ان کو بہت شوق تھا۔چنانچہ پمفلٹس اور فلائرز اور نیوز لیٹر چھاپ کر تقسیم کرتی تھیں۔بسوں میں سفر کے دوران جماعتی لٹریچر رکھتی تھیں۔اسے تقسیم کرتی تھیں۔لائبریریوں اور سکولوں میں اسلامی کتب اور قرآنِ کریم کے نسخے رکھوائے۔ریڈیو اور ٹی وی پر متعدد انٹرویو دیے۔ان کے ذریعہ سے پچاس سے زائد افراد کو احمدیت قبول کرنے کی سعادت ملی۔بہت ہنس مکھ طبیعت کی مالک تھیں۔بہت ذہین اور پڑھی لکھی بھی تھیں۔آپ کی ان خوبیوں کی وجہ سے بڑی کثرت سے عورتیں ان سے ملنے آیا کرتی تھیں۔آپ کے دل میں اسلام کی محبت کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔اچھی استاد مانی جاتی تھیں۔وہاں بھی احمدی خواتین ان کو ماں کی طرح سمجھتی تھیں۔بڑے پیار سے لوگوں کو سمجھاتیں اور غلطیاں درست کیا کرتی تھیں۔بچیوں کو ہمیشہ پر دے کی تعلیم دیتی رہیں اور اس طرح اسلامی اخلاق سکھلاتیں۔نیز بتاتیں کہ مغربی معاشرے کی بدرسوم کا کیسے مقابلہ کرنا ہے۔وہیں پلی بڑھی تھیں ان کو سب کچھ پتہ تھا۔آجکل ذرا سا مغرب کا اثر ہو جاتا ہے