خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 132 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 132

خطبات مسرور جلد 11 132 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء جس گاؤں میں ظاہر ہوئے تھے اُس کا نام ناصرہ تھا اور ناصرہ کی آبادی بمشکل دس بارہ گھروں پر مشتمل تھی۔میرے اس جواب پر پھر اُن کا رنگ فق ہو گیا اور حیران ہوئے کہ میں نے اس کو اسی بات کا جواب دے دیا ہے۔اسی طرح کوئی تیسرا سوال بھی کیا تھا جو یاد نہیں۔فرماتے ہیں کہ بہر حال اس نے تین سوال کئے اور تینوں سوالات کے متعلق قبل از وقت اللہ تعالیٰ نے القاء کر کے مجھے بتا دیا کہ اُس کا ان سوالات سے اصل منشاء کیا ہے؟ اور باوجود اس کے کہ وہ چکر دے کر پہلے اور سوال کرتا تھا، پھر بھی اللہ تعالیٰ نے اُس کا اصل منشاء مجھ پر ظاہر کر دیا اور وہ بالکل لا جواب ہو گیا۔تو اللہ تعالیٰ قلوب پر عجیب رنگ میں تصرف کرتا اور اس تصرف کے ماتحت اپنے بندوں کی مدد کیا کرتا ہے اور یہ تصرف صرف خدا کے اختیار میں ہوتا ہے بندوں کے اختیار میں نہیں ہوتا۔فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ ایک کج بحث ملاں مسجد میں مجھے ملا اور کہنے لگا۔مجھے مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت دیجئے۔میں نے کہا قرآن موجود ہے۔سارا قرآن حضرت مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت ہے۔کہنے لگا کونسی آیت ؟ میں نے کہا قرآن کریم کی ہر آیت مرزا صاحب کی صداقت کا ثبوت ہے۔اب یہ تو صحیح ہے کہ قرآن کریم کی ہر آیت ہی کسی نہ کسی رنگ میں نبی پر چسپاں ہوسکتی ہے مگر بعض آیتیں ایسی ہیں کہ اُن کو سمجھنا اور یہ بتانا کہ کس رنگ میں اُس سے نبی کی صداقت کا ثبوت نکلتا ہے، بہت مشکل ہے۔فرض کروکسی آیت میں لڑائی کا واقعہ بیان ہو تو اب گو اس سے بھی نبی کی صداقت ثابت کی جاسکتی ہے مگر وہ ایسا رنگ ہے جو عام طبائع کی سمجھ سے بالا ہوتا ہے۔مگر کہتے ہیں کہ مجھے اُس وقت یقین تھا کہ اللہ تعالیٰ تصرف فرما کر اُس کی زبان سے وہی آیت نکلوائے گا جس سے نہایت وضاحت کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت ثابت ہو جائے گی۔تو بہر حال کہتے ہیں اُس نے یہ آیت پڑھی کہ وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَقُولُ آمَنَّا بِاللهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِينَ (البقرة:9)۔میں نے سمجھ لیا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ہی تصرف ہے کہ اُس نے اُس کی زبان سے یہ آیت نکلوائی ہے۔چنانچہ میں نے اُس سے کہا۔یہ آیت کن لوگوں کے متعلق ہے؟ مسلمانوں کے متعلق ہے یا غیر مسلموں کے متعلق ہے؟ اُس کا اصل سوال یہ تھا کہ جب مسلمان نمازیں پڑھتے ہیں، ( پہلے سوال یہ کر چکا تھا کہ جب مسلمان نمازیں پڑھتے ہیں،) روزے رکھتے ہیں، حج کرتے ہیں اور خدا اور اُس کے رسول پر ایمان لاتے ہیں تو اُن کے لئے کسی نبی کی کیا ضرورت ہے؟ جب اُس نے یہ آیت پڑھی تو میں نے اُس سے پوچھا کہ یہ آیت کن لوگوں کے متعلق ہے۔اُس نے کہا مسلمانوں کے متعلق۔میں نے کہا تو پھر یہ آیت بتاتی ہے کہ مسلمانوں میں بھی