خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 130 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 130

خطبات مسرور جلد 11 130 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء وہاں جا کے لوگوں کو ورغلا یا کرتے تھے کہ قادیان نہ جاؤ تمہارا ایمان خراب ہو جائے گا۔ایک دن اُن کو سارا دن سٹیشن پر پھرنے سے اور کوئی شکار نہیں ملا۔پیرا کو کسی کام سے کوئی بلٹی چھڑانے کے لئے ، تار دینے کے لئے وہاں بھیجا گیا تھا تو انہوں نے اُس کو پکڑ لیا۔وہ کہنے لگے کہ پیرے! تیرا تو ایمان خراب ہو گیا۔مرزا صاحب کا فر اور دجال ہیں نعوذ باللہ۔تو اپنی عاقبت اُن کے پیچھے لگ کر کیوں خراب کرتا ہے۔پیرا ان کی باتیں سنتا رہا۔جب ساری باتیں کرلیں تو پھر پیرے سے پوچھا کہ بتاؤ میری باتیں کیسی ہیں؟ پیرا کہنے لگا مولوی صاحب! میں تو ان پڑھ اور جاہل ہوں۔مجھے نہ علم ہے اور نہ مسئلے سمجھ سکتا ہوں۔لیکن ایک بات ہے جو میں آپ کی سمجھتا ہوں اور وہ یہ کہ میں سالہا سال سے بلٹیاں لینے اور تاریں دینے کے لئے یہاں آتا ہوں اور میں دیکھتا ہوں کہ آپ ہمیشہ سٹیشن پر آ کر لوگوں کو قادیان جانے سے منع کرتے ہیں۔آپ کی اب تک شاید اس کوشش میں کتنی ہی جو تیاں گھس گئی ہوں گی مگر مولوی صاحب ! پھر بھی آپ کی کوئی نہیں سنتا اور مرزا صاحب قادیان میں بیٹھے ہیں اور پھر بھی لوگ اُن کی طرف کھچے چلے جاتے ہیں۔آخر کوئی بات تو ہے جس کی وجہ سے یہ فرق ہے۔تو دیکھو یہ کیسا لطیف اور صحیح جواب ہے۔اُس کو کوئی دلیل نہیں آتی تھی لیکن یہ قدرتی جواب تھا جو اللہ تعالیٰ نے پیرے کو سکھایا جس کی نماز کی حالت میں نے آپ کو بتائی۔تو فرمایا تو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں اور اپنے ساتھ تعلق رکھنے والوں کو بعض دفعہ ایسی باتیں سمجھا دیتا ہے کہ انسان کی عقل دنگ ہو جاتی ہے کیونکہ اُس کے پاس یعنی اللہ تعالیٰ کے پاس سارے سامان ہیں اور جس چیز کی کمی ہو وہ اُس کے پاس موجود ہوتی ہے۔عقل کی کمی ہو تو وہ اُس کے پاس موجود ہے۔جرات کی کمی ہو تو وہ اُس کے پاس موجود ہے۔سخاوت کی کمی ہو تو وہ اُس کے پاس موجود ہے۔صحت کی کمی ہو تو وہ اُس کے پاس موجود ہے۔عزت کی کمی ہو تو وہ اُس کے پاس موجود ہے، مال کی کمی ہو تو وہ اُس کے پاس موجود ہے۔غرض ہر چیز کے خزانے اُس کے پاس موجود ہیں اور وہ اپنے بندوں کو ان خزانوں میں سے ایسے رنگ میں حصہ دیتا ہے کہ انسان حیران ہو جاتے ہیں۔پھر فرماتے ہیں کہ یہیں قادیان میں ایک دفعہ پادری زویمر آیا جو دنیا کا مشہور ترین پادری ہے اور امریکہ کا رہنے والا تھا۔وہاں ایک بہت بڑے تبلیغی رسالے کا ایڈیٹر بھی تھا اور یوں ساری دنیا کی عیسائی تبلیغی سوسائٹیوں میں نمایاں مقام رکھتا تھا۔اُس نے قادیان کا بھی ذکر سنا ہوا تھا۔جب وہ ہندوستان میں آیا تو اور مقامات کو دیکھنے کے بعد وہ قادیان آیا۔اُس کے ساتھ ایک اور پادری گارڈن نامی بھی تھا۔ڈاکٹر خلیفہ رشید الدین صاحب مرحوم اُس وقت زندہ تھے۔انہوں نے اُس وقت قادیان کے تمام مقامات