خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء)

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 123 of 775

خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 123

خطبات مسرور جلد 11 123 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء پھر عرب کا ایک پرانا قصہ مشہور ہے اُس کی مثال دیتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ : دیکھو عربی ادب کی کتب میں لکھا ہے کہ عرب میں ایک بادشاہ عمرو بن ہند تھا۔اُس نے ایک علاقے پر جو شام اور عراق کی طرف تھا ، حکومت قائم کی اور عرب کے لحاظ سے اس قدر شوکت حاصل کر لی کہ اُسے خیال پیدا ہوا کہ سارا عرب میری بات مانتا ہے۔ایک دن درباریوں سے اُس نے بات کرتے ہوئے کہا۔کیا عرب میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جو میری بات ماننے سے انکار کر سکے۔۔۔۔انہوں نے کہا کہ ایک شخص عمرو بن کلثوم ہے جو اپنے قبیلے کا سردار ہے۔ہمارے خیال میں وہ ایسا شخص ہے جو آپ کی اطاعت نہیں کرے گا۔اُس نے کہا بہت اچھا۔میں اس کی تصدیق کرنے کے لئے اُسے بلواتا ہوں۔چنانچہ بادشاہ نے عمرو بن کلثوم کو دعوت دی اور اُسے خط لکھا کہ آپ یہاں تشریف لا ئیں۔آپ سے ملنے کو جی چاہتا ہے۔چنانچہ وہ اپنے قبیلے کے کچھ لوگوں کو لے کر آ گیا جیسے عرب کا دستور تھا۔بادشاہ اُس وقت کسی جگہ خیموں میں ٹھہرا ہوا تھا۔وہیں اُس نے آ کر اپنے خیمے لگا دیئے۔اُس بادشاہ نے عمرو بن کلثوم کو یہ بھی لکھا تھا کہ اپنی والدہ اور دوسرے عزیزوں کو بھی لیتے آنا۔چنانچہ وہ اس کے مطابق اپنی والدہ کو بھی لے آیا۔عمر و بن ہند نے یعنی بادشاہ نے اپنی والدہ سے کہا۔کام کرتے کرتے عمرو بن کلثوم کی ماں سے کوئی چھوٹا سا کام لے کر دیکھنا تا پتہ لگ سکے کہ ان لوگوں کی کیا حالت ہے۔چنانچہ جب وہ کھانا کھانے بیٹھے تو عرب کے دستور کے مطابق گووہ بادشاہ کہلاتا تھا مگر اُس کی ماں خود کھانا برتانے میں بیٹھ گئی۔اپنے بیٹے کے لئے بھی اور عمر و بن کلثوم کیلئے بھی۔گویا عمرو بن ہند کی والدہ ( بادشاہ کی والدہ ) اُس وقت عملاً عمرو بن كلثوم اور اُس کے دوسرے عزیزوں کا کام کر رہی تھی۔پس ایسے وقت میں عمرو بن کلثوم کی ماں کا کسی کام میں ہاتھ بٹانا ہرگز اُس کی ہتک کا موجب نہیں ہوسکتا تھا کیونکہ جب بادشاہ کی ماں خود ایک کام کر رہی تھی تو اسی کام میں عمرو بن کلثوم کی ماں کا ہاتھ بٹانا ہرگز کوئی ایسی بات نہیں تھی جو اُس کی شان اور عزت کے منافی ہوتی۔مگر واقعہ کیا ہوتا ہے، کھانا برتاتے وقت ایک تھال کچھ فاصلے پر پڑا تھا۔عمرو بن ہند کی والدہ کھانا برتاتے برتاتے اُسے کہنے لگی کہ بی بی ذرا وہ تھال تو سر کا کر ادھر کر دینا۔اُسے یہ بھی جرات نہ ہوئی کہ اس سے زیادہ اُس سے کام لے سکے، کام کرنے کے لئے کہے۔مگر تاریخوں میں لکھا ہے کہ جو نہی بادشاہ کی ماں نے اُس کی اُس عرب قبیلہ کے سردار عمر و بن کلثوم کی والدہ سے یہ بات کہی وہ کھڑی ہوگئی۔( قبیلہ کے سردار کی ماں کھڑی ہوگئی ) اور اُس نے زور سے پکارنا شروع کر دیا کہ اوا ابن کلثوم ! تمہاری ماں کی ہتک ہو گئی ہے۔عمرو بن كلثوم اُس وقت بادشاہ کے ساتھ کھانا کھا رہا تھا اور کھانا کھانے کی وجہ سے اُس نے اپنی تلوار ایک طرف لڑکائی ہوئی تھی مگر