خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 118
خطبات مسرور جلد 11 118 خطبہ جمعہ فرمودہ مورخہ 22 فروری 2013ء ان کتب کا ترجمہ کرنے کے لئے دیا گیا ہے۔بہر حال ایک خزانہ ہے جو آپ نے اپنی زندگی اور 52 سالہ دور خلافت میں جماعت کو دیا۔لیکن اس کی اشاعت چند ہزار کی تعداد میں ہوتی ہے۔جو احباب خریدتے ہیں وہ بھی شاید ہی تفصیل سے پڑھتے ہوں۔اور پھر اب لاکھوں نو مبائعین اور نئی نسل ایسی ہے جو اردو میں نہ پڑھ سکتی ہے، نہ اُن کی زبان میں انہیں مہیا ہے۔جو مہیا ہے وہ بھی جیسا کہ میں نے کہا بہت تھوڑی تعداد میں ہے۔اس لئے نئی نسل کی اکثریت اور نومبائعین کو آپ کے انداز تحریر وتقریر کا پتہ ہی نہیں۔نہ ہی آپ کے علم ومعرفت کا کچھ اندازہ ہے۔بلکہ میری عمر کے لوگ جو پیدائشی احمدی ہیں اور مجھ سے چند سال بڑے بھی ، اُن کو بھی آپ کے انداز خطیبانہ اور تقریروں کا اندازہ نہیں ہوسکتا۔اگر ہم یہ مجموعے اور خزانے پڑھیں تو تبھی ہم آپ کی علمی وسعت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے علوم ظاہری و باطنی سے پر کئے جانے کی جو پیشگوئی تھی اُس کا اندازہ کر سکتے ہیں۔اور اپنے علم میں بھی ، جیسا کہ میں نے کہا ، اضافہ کر سکتے ہیں۔ویڈیو آڈیو کی اُس زمانے میں ایسی سہولت نہیں تھی۔آپ کے دور خلافت کے آخری سالوں میں لوپ (Loop) پر ریکارڈنگ ہوتی تھی۔ایک دو جو تقریریں تھیں ان کی جور یکارڈنگ کی گئی اس میں آواز امتداد زمانہ سے وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ کافی حد تک اتنی اچھی نہیں رہی۔اور آپ کا جو انداز تھا، یہ ریکارڈنگ اس کی اصل شان و شوکت نہیں رکھتی۔بہر حال یہ شکر ہے کہ تحریرات کا، تقاریر کا، خطبات کا ریکارڈ کافی حد تک موجود ہے۔کافی حد تک اس لئے میں نے کہا ہے کہ اُس زمانے میں زود نو میں لکھا کرتے تھے اور بعض جگہ یہ احساس ہوتا ہے کہ زود نویں جب لکھتے تھے تو انہوں نے مکمل طور پر بعض خطبات اور تقاریر اور تحریرات نوٹ نہیں کئے یا مکمل فقرے نہیں لکھے گئے۔بعض باتیں لکھنے سے رہ گئی ہیں۔بہر حال آج بجائے اس کے کہ اس پیشگوئی کے بارے میں کچھ بیان کروں، میں نے سوچا کہ آپ کا ایک خطبہ جتنا زیادہ آپ کے الفاظ میں بیان ہو سکتا ہے، وہ وقت کی رعایت کے ساتھ بیان کر دوں۔مشتمل ہے۔یہ جو خطبہ میں نے چنا ہے یہ بھی دعا کے طریق اور خدا تعالیٰ پر یقین کے مضمون پر مش یقین کہ وہی تمام قدرتوں کا مالک ہے اور وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔یہ مضمون میں نے اس لئے بھی چنا ہے کہ آجکل بھی اگر ہم خارق عادت نتائج دیکھنا چاہتے ہیں تو اس مضمون کے صحیح ادراک اور اس پر عمل کی ضرورت ہے۔یہ خطبہ 10 اپریل 1942 ء کا ہے۔آپ نے اس طرح فرمایا کہ: میں نے احباب کو متواتر دعاؤں کی طرف توجہ دلائی ہے اور اب جو بعض دوستوں کی طرف سے