خطبات مسرور (جلد 11۔ 2013ء) — Page 6
خطبات مسرور جلد 11 6 خطبه جمعه فرمودہ مورخہ 4 جنوری 2013ء شام سے یہاں کھڑے آپ کے اس راستے سے گزرنے کا انتظار کر رہے ہیں۔اس گاؤں کی جوصدر صاحبہ لجنہ تھیں، انہوں نے لجنہ کو کہا کہ انہوں نے چندے کے لئے جو جنس وغیرہ اکٹھا کی تھی، وہ اپنا چندہ لجنہ کو علیحدہ دینا چاہئے۔چنانچہ لجنہ نے اپنے طور پر بھی محنت کی اور اپنا علیحدہ اناج اکھٹا کیا اور وہ جو خدام جو تھے وہ دینے کے لئے وہاں کھڑے تھے۔چھوٹی سی ایک غریب جماعت جس کی اپنی حیثیت بالکل معمولی تھی وہ بھی اس طرح محنت اور تعلق اور وفا کا اظہار کرتے ہیں۔پھر ببینن سے آلا ڈاریجن کے مبلغ لکھتے ہیں کہ Soyo ( سویو ) گاؤں کے صدر صاحب جماعت ایک سال قبل مشرکین سے احمدی ہوئے۔پہلے مشرک تھے، بتوں کو پوجنے والے تھے، احمدی ہوگئے، ایک خدا کے آگے جھکنے والے بن گئے۔اُن سے جب وقف جدید کا چندہ لینے گئے تو انہوں نے گھر میں موجود 450 فرانک سیفا کی رقم چندہ میں دے دی اور یہ بھی نہ سوچا کہ آج دو پہر کو کیا کھائیں گے کہ اب کوئی رقم گھر میں نہ تھی۔یہ موٹر سائیکل رکشہ چلاتے ہیں۔چندہ دینے کے بعد اپنا موٹر سائیکل لے کر باہر نکل گئے کہ خدا کچھ تو دے گا ، دو پہر کونہیں تو شام کو کھالیں گے، کیا فرق پڑتا ہے۔موٹر سائیکل میں پڑول بھی ادھار لے کر ڈلوایا اور پھر دوسرے دن مزید 1000 فرانک سیفا چندہ لے کر آئے اور بتایا کہ مربی صاحب دیکھیں خدا کا سلوک۔میں نے دوپہر کے کھانے کا بھی نہیں سوچا تھا اور موٹر سائیکل رکشہ میں تیل بھی ادھار لے کر ڈلوایا تھا اور خدا نے مجھے اتنی سواریاں دیں کہ میں جو گھر سے خالی ہاتھ نکلا تھا، بظاہر مقروض تھا، 2000 فرانک سیفا کی رقم لے کر گھر آیا ہوں۔اور اب اُس میں سے نصف پھر مزید چندہ دے رہا ہوں۔قرضے اتار کے یہ اتنے پیسے بچ بھی گئے۔امیر صاحب بورکینا فاسو بیان کرتے ہیں کہ بوبو ریجن کے ایک نو مبائع کمپورے سعید صاحب (Compore Saeed) کہتے ہیں کہ انہوں نے مالی تنگی کی وجہ سے تین ماہ کا چندہ ادا نہیں کیا تھا۔اس دوران ان کی چوری بھی ہوگئی اور جوان بیٹا بھی شدید بیمار ہوگیا۔ہر طرح علاج کروایا مگر صحتیاب نہ ہوئے۔کہتے ہیں کہ ایک رات خواب میں میں نے خلیفہ اسیح کو دیکھا ( مجھے دیکھا انہوں نے ) کہ وہ آئے ہیں اور خاکسار سے کہنے لگے کہ آپ نے کئی ماہ سے اپنا چندہ ادا نہیں کیا۔میں نے خواب میں جواباً کہا کہ انشاء اللہ 20 دنوں میں ادا کر دوں گا اور پھر کوشش کر کے 20 دنوں میں اپنا چندہ ادا کر دیا۔کہتے ہیں کہ اُسی دن سے میرے بڑے بیٹے کو کامل شفا بھی ہو گئی اور نہ صرف شفا ہوئی بلکہ پہلے سے اچھی نوکری بھی مل گئی اور پھر اس کی برکت سے خدا تعالیٰ نے مجھے بھی توفیق دی کہ میں نے نئی موٹر سائیکل خرید لی۔اور یہ تمام